"گروک" کی غلط معلومات: بونڈائی ساحل حملے کے ہیرو احمد الاحمد کو اسرائیلی قیدی قرار دے دیا
آسٹریلیا میں حانوکاہ کی تقریب پر حملے کے بعد انٹرنیٹ پر غلط معلومات کا بازار گرم
امریکی ارب پتی ایلون مسک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے پروگرام "گروك" نے آسٹریلیا کے بونڈائی ساحل پر ہونے والے اجتماعی فائرنگ حملے کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کیں۔ یہ حملہ اتوار کی شب یهودی تہوار حانوکاہ کے جشن میں شریک لوگوں پر کیا گیا تھا جس میں پندرہ افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے۔
مصنوعی ذہانت کے پروگرام "گروک"جسے "چیٹ بوٹس" کہا جاتا ہے صارفین کو معلومات یا تصاویر کے بارے میں فوری جوابات فراہم کرتا ہے، جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے معلومات کی تصدیق کرنے والے عملے کی تعداد کم کر دی ہے۔
اتوار کی شب ایک شخص اور اس کے بیٹے نے بونڈائی ساحل پر جمع لوگوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے تھے۔
اس حملے کو آسٹریلوی حکام نے "دہشت گردی" قرار دیا۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر معلومات اور تصاویر کی ایک لہر دوڑ گئی، خاص طور پر "ایکس" پلیٹ فارم پر جہاں "گروك" بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
گروك سے بونڈائی بیچ حملےکے موقعے پر حملہ آور پر جھپٹنے والے شامی نژاد احمد الاحمد کی تصویر کے ساتھ شناخت معلوم کی تو مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے اس کی غلط شناخت ظاہر کی۔ وہ آسٹریلیا کے "ہیرو" کے طور پر سامنے آئے تھے، کیونکہ ایک ویڈیو میں وہ ایک حملہ آور سے اسلحہ چھینتے دکھائی دیے۔ احمد الاحمد شدید زخمی ہیں اور ہسپتال میں علاج کر رہے ہیں۔
گروك نے دعویٰ کیا کہ یہ تصاویر ایک "پرانے ویڈیو" کی ہیں، جس میں ایک آدمی پارکنگ میں کھجور کے درخت پر چڑھتا دکھائی دیتا ہے۔اس نے کہا کہ یہ ایک "متعلقہ واقعہ" ہے۔
پروگرام نے احمد الاحمد جو اصل میں شامی ہیں کو ہماس کے پاس اسرائیلی قیدی کے طور پر گرفتار ہونے والا ظاہر کر دیا، جسے 700 دن سے زیادہ عرصہ قید میں ہو چکا ہے۔
جب پروگرام سے حملے کے دوسرے منظر کے بارے میں پوچھا گیا،تو اس نے غلط طور پر دعویٰ کیا کہ یہ "طوفان الفریڈ" کی تصاویر ہیں، جس نے سنہ 2025ء کے اوائل میں آسٹریلوی ساحل پر طوفانی موسم پیدا کیا تھا۔
پروگرام نے تب تک غلطی تسلیم نہیں کی جب تک کہ ایک اور صارف نے اسے اپنے جواب کی دوبارہ جانچ کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔
"اے ایف پی"سے بات کرتے ہوئے پروگرام کے ڈویلپر "ایکس اے آئی" نے خودکار پیغام میں کہاکہ "روایتی میڈیا جھوٹ بولتا ہے"۔
واقعے کے بعد، انٹرنیٹ صارفین نے مصنوعی ذہانت کے پروگرام استعمال کرکے تصاویر میں ترمیم کی تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ واقعہ "جعلی" تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت مثال کے طور پر تصاویر کے جغرافیائی مقام کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ انسانی جانچ اور معلومات کی تصدیق کا متبادل نہیں بن سکتی۔