ایک نادر واقعہ: کینیڈا میں مادہ قطبی ریچھ نے دوسرے کے بچے کو گود لے لیا

45 سالوں میں اس نوعیت کے صرف 13 واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں: محقق محکمہ ماحولیات کینیڈا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

کینیڈا میں محققین نے حال ہی میں ایک نہایت نادر صورتحال دیکھی ہے جہاں ملک کے شمالی علاقے میں ایک مادہ قطبی ریچھ نے ایک ایسے بچے کو اپنا لیا ہے جسے اس نے پیدا نہیں کیا تھا۔ کینیڈا کے محکمہ ماحولیات کے محقق ایون رچرڈسن، جو گزشتہ 25 برسوں سے قطبی خطے کے ان بڑے شکاریوں پر تحقیق کر رہے ہیں، نے اے ایف پی کو بتایا کہ 45 سالوں میں اس طرح کے صرف 13 کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔

نومبر میں ایون رچرڈسن اور ان کی ٹیم شمالی مانیٹوبا کے علاقے "چرچل" (جسے دنیا میں قطبی ریچھوں کا دارالحکومت کہا جاتا ہے) کے قریب ایک مادہ ریچھ اور اس کے دو بچوں کو پکڑنے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں سے ایک بچے کی عمر 10 ماہ اور دوسرے کی 11 ماہ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہم قریب پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ ایک بچے پر شناختی ٹیگ لگا ہوا تھا جبکہ دوسرے پر نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی مادہ ریچھ کو چند ماہ قبل صرف ایک بچے کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ اس شمالی علاقے میں محققین ریچھوں پر شناختی نشانات لگاتے ہیں تاکہ ان کی پوری زندگی کے دوران ان کی نقل و حرکت کا مطالعہ کیا جا سکے۔

جی پی ایس کالرز اور "پولر بیئرز انٹرنیشنل" نامی تحقیقی گروپ کے مشاہدات نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس مادہ ریچھ نے ان دونوں بچوں کو ہفتوں تک اپنے ساتھ رکھا۔ ایون رچرڈسن نے کہا کہ یہ ایک شاندار کہانی ہے۔ ان قطبی ریچھوں میں ممتا کا ناقابل یقین احساس ہوتا ہے اور یہ فطری طور پر اپنے چھوٹوں کی دیکھ بھال کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

خیال رہے مغربی ہڈسن بے میں قطبی ریچھوں کی تعداد چند دہائیوں میں 30 فیصد تک کم ہو گئی ہے ۔ یہ تعداد 1980 کی دہائی میں 1200 تھی اور اب محض 800 رہ گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ برف کا تیزی سے پگھلنا ہے جو ان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ تاہم رچرڈسن کے مطابق اس گود لینے کے واقعے اور ماحولیاتی تبدیلی کے درمیان تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ فی الحال گود لیے گئے بچے کی حیاتیاتی ماں کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ سائنسدان کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اس کی اصل ماں کی شناخت کر لیں گے۔ گزشتہ 45 سالوں میں کینیڈا کے اس علاقے میں 4600 سے زیادہ قطبی ریچھ دیکھے جا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا میں ریچھوں کا سب سے زیادہ مطالعہ کیا جانے والا گروپ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں