غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو دو ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اس کے تیجے میں دو سالہ تباہ کن جنگ کے بعد لڑائی کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں اور آئندہ مرحلے کے مشکل اقدامات پر کسی حتمی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آتے۔
جنگ بندی سے متعلق اقدامات تین بنیادی دستاویزات میں شامل ہیں۔ ان میں سب سے تفصیلی 20 نکاتی منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں پیش کیا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی کے بعد مکمل جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس منصوبے میں حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنے، غزہ میں اس کے حکومتی کردار کے خاتمے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کی شقیں شامل ہیں، تاہم دونوں فریق ان تمام نکات پر مکمل طور پر متفق نہیں ہو سکے۔ رواں سال 9 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان ایک جزوی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی، جزوی اسرائیلی انخلا اور انسانی امداد میں اضافے پر اتفاق کیا گیا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے اس منصوبے کی توثیق کی گئی، جس میں غزہ میں عبوری انتظامیہ اور استحکام کے لیے بین الاقوامی فورس کی اجازت بھی شامل ہے۔
اب تک تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدی آزاد ہوئے ہیں۔ ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی میں تاخیر ہوئی، جن میں سے ایک لاش اب بھی غزہ میں موجود ہے، جبکہ دیگر لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جا چکی ہیں۔ امداد کے معاملے پر اختلاف برقرار ہے۔ حماس تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں داخل ہونے والی امداد طے شدہ مقدار سے کم ہے، جبکہ امدادی اداروں کے مطابق دستیاب امداد کم از کم ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہی۔ البتہ اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ رفح سرحدی گزرگاہ بھی بدستور بند ہے اور اسرائیل اسے آخری یرغمالی کی لاش کی حوالگی سے مشروط رکھتا ہے۔
غزہ کی پٹی اب بھی شدید تباہی کا شکار ہے، جہاں لوگ ملبے سے سامان نکال کر عارضی خیمے لگا رہے ہیں۔ یونیسف کے مطابق بچوں میں شدید غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جبکہ بارشوں، سیلابی پانی اور نکاسی آب کے مسائل نے صحت کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ابھی کئی اہم معاملات طے ہونا باقی ہیں، جن میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل، عبوری فلسطینی انتظامیہ اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات شامل ہیں۔ حماس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسلحہ نہیں چھوڑے گی، جبکہ اسرائیل مزید انخلا کو اسی شرط سے جوڑتا ہے۔ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس تنظیم کو پر امن طریقے سے غیر مسلح نہ کیا گیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں جانب یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ جنگ بندی طویل جمود میں بدل سکتی ہے اور غزہ کی پٹی غیر یقینی مستقبل سے دوچار رہے گی۔