امریکہ : ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں اور ٹینکرز پر نئی پابندیوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ نے ایسے 29 بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کو پابندیوں کا جمعرات کے روز ہدف بنایا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی ٹرانسپورٹیشن میں ملوث تھے۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ کے مطابق ان جہازوں اور ٹینکرز نے سینکڑوں ملین مالیت کا ایرانی تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مختلف جگہوں پر منتقل کی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم کے خلاف پابندیوں کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ وہ پیٹرولیم سے روینیو حاصل نہ کر سکے جسے وہ جوہری ہتھیار سازی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

یہ بات امریکی محکمہ خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے فنانشل اینٹلی جنس اینڈ ٹیررازم نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔ تاہم اس بارے میں ایران میں اقوام متحدہ کے سفارتی مشن نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یاد رہے دونوں ملکوں کے درمیان جوہری ایشو پر کشیدگی کافی شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ امریکہ نے ایرانی جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ماہ جون میں ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا اور 3 اہم ترین جوہری تنصیبات کے مقامات پر بنکر بسٹر بموں کا استعمال کیا تھا۔

اب جمعرات کے روز لگائی جانے والی ان امریکی پابندیوں کی زد میں مصر سے تعلق رکھنے والے تاجر حاتم ایلسائید، فرید ابراہیم کی کمپنیاں 7 کشتیوں سے متعلق ہیں جو پابندیوں کی زد میں آئی ہیں۔ علاوہ ازیں 7 دیگر بحری کمپنیاں بھی پابندیوں کی زد میں آئی ہیں۔

اس سے قبل اسی مہینے میں امریکہ نے وینزویلا کے آئل ٹینکرز کو بھی ضبط کر لیا ہے۔ ان دنوں امریکہ ایران اور وینزویلا دونوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کیے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں