بنگلہ دیش میں ہفتہ کے روز سے پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کرتے ہوئے دارالحکومت ڈھاکہ میں سیکیورٹی کے یہ غیر معمولی انتظامات انتخابی امیدوار عثمان ہادی کے بہیمانہ قتل کے بعد ملک میں جاری سخت غم و غصے کی فضا میں کیے گئے ہیں۔
عثمان ہادی کی نماز جنازہ سے پہلے غیر معمولی سیکیورٹی کا بندوبست کیا گیا۔ تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے۔
جنوبی ایشیائی ملک بنگلہ دیش میں پچھلے دنوں سے نوجوان امیدوار برائے انتخابات شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد سخت عوامی ردعمل اور غم و غصے کی فضا ہے۔ اس دوران ایک اخبار کے دفتر اور ثقافتی اداروں کو بھی آگ لگائی گئی ہے۔
32 سالہ شریف عثمان ہادی نوجوانوں اور طلبہ کی اس تحریک کا اہم لیڈر تھا جس نے مفرور وزیر اعظم حسینہ واجد کی حکومت کا 5 اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
پچھلے ہفتے شریف عثمان ہادی کو انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد وہ چھ دن تک سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
بنگلہ دیش میں ان دنوں انتخابی مہم جاری ہے۔ جہاں 12 فروری کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور لاکھوں لوگ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر کے تقریبا دو سال سے چلے آرہے ہنگامہ خیزی کے دور کے بعد نئے سرے سے انتخاںی عمل میں داخل ہوں گے۔
انسانی حقوق گروپوں نے عثمان ہادی کے بہیمانہ قتل کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ نیز قتل کے بعد سامنے آنے والے ہنگاموں اور پرتشدد واقعات کو بھی نا پسند کیا ہے۔
ڈاکٹر یونس کی عبوری حکومت نے عثمان ہادی کے اس قتل کے واقعے کے بعد ایک دن کے لیے پورے ملک میں سوگ کا اعلان کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج کو پر امن رکھیں اور تشدد کے واقعات کو روکنے میں مدد دیں۔
انسانی حقوق کے لیے بین الاقوامی ادارے 'ہیومن رائٹس واچ' نے عثمان ہادی کے قتل کے واقعے کو خوفناک واقعہ قرارد دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر پرتشدد واقعات روکنے کے لیے اقدامات کرے۔اس انسانی حقوق گروپ نے اخباری دفتر پر حملے کی بھی مذمت کی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عثمان ہادی کے قتل کے بعد اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ عثمان ہادی کے قتل کے واقعے کے بعد جمعہ کے روز سے دارالحکومت کے علاقے شاہ باغ میں احتجاج جاری ہے اور عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ عثمان ہادی کے قاتلوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔
دارالحکومت ڈھاکہ کے علاوہ بھی بنگلہ دیش کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔ ان شہروں میں چٹاگانگ اور دیگر بڑے دوسرے شہر بھی شامل ہیں۔
-
بنگلہ دیش، قاتلانہ حملے میں زخمی طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی انتقال کر گئے
نوجوان سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد پُرتشدد مظاہرے، سرکاری و میڈیا دفاتر نذر آتش
بين الاقوامى -
میکسیکو سٹی : تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر پائلٹ کا احتجاج ، جہاز اڑانے سے انکار کر دیا
میکسیکو سٹی میں ایک پائلٹ نے اپنے آپ کو جہاز کے کاک پٹ میں بند کر کے جہاز اڑانے سے ...
بين الاقوامى -
ایشیا کے ملک میں ہٹلر کے انسانیت سوز تجربات
نازیوں نے تبت کے باشندوں پر تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی نسل کی برتری کے ...
بين الاقوامى