بنگلہ دیش، قاتلانہ حملے میں زخمی طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی انتقال کر گئے

نوجوان سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد پُرتشدد مظاہرے، سرکاری و میڈیا دفاتر نذر آتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے بنگلادیش کے معروف نوجوان سیاسی رہنما عثمان ہادی انتقال کر گئے۔ عثمان ہادی جولائی میں حسینہ واجد حکومت کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے اور طلبہ رہنماؤں کے قائم کردہ سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان بھی تھے۔

ادھر بنگلا دیش میں نوجوان سیاسی رہنما شریف عثمان ہادی کے انتقال کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

دارالحکومت ڈھاکا میں مشتعل مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور عوامی لیگ اور میڈیا اداروں کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا۔ مظاہرین نے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے کئی اہم شاہراہیں بند کر دیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے اور واضح کیا کہ انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عثمان ہادی پر حملے میں ملوث افراد کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

راجشاہی میں بھی مظاہرین کی جانب سے شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کو آگ لگانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر حکام نے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق عثمان ہادی کو گذشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ عثمان ہادی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا تاہم انہیں مزید علاج کے لیے ہفتے کے روز سنگاپور منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گئے۔ عثمان ہادی بنگلادیش کے آئندہ انتخابات میں آزاد حیثیت میں حصہ لینے کے خواہش مند تھے۔

گذشتہ روز سنگاپور کے وزیر خارجہ نے ہسپتال میں عثمان ہادی کی عیادت کی تھی اور بنگلادیشی چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہیں بتایا تھا کہ عثمان ہادی کی حالت انتہائی نازک ہے۔

بنگلادیشی حکام کے مطابق عثمان ہادی پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اب تک 14 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ڈھاکا میں عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے کے خلاف مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے بھی احتجاج کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں