مکہ میں ام القری برائے ترقی و تعمیر کے ساتھ شراکت داری کر کے کام کرنے والے ادارے 'الیکٹرومین' کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ اسی ہفتے مکہ شہر میں بجلی سے چلنے والی بسوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
جس سے اگلے 15 برسوں میں 125 ملین سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جبکہ ان بجلی سے چلنے والی بسوں کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیسز کا اخراج بھی رک جائے جو اس سے قبل روایتی گاڑیوں سے 31500 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو رہا ہے۔
جمعہ کے روز الدباغ گروپ کے چیئرپرسن امر الدباغ نے کہا بسوں کا یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جو کہ روایتی بسوں کے مقابلے میں بہت بہتر ثابت ہوگا اور مملکت میں اس نوعیت کا یہ پہلا تجربہ ہوگا۔
سڑکوں پر ان کے لیے لینز مختص کر دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کو محفوظ اور ریلائبیل سفر فراہم کریں جو ماحولیاتی اعتبار سے بھی میفد اور ماحول دوست ہو۔
یہ بسیں مکہ کے شہریوں اور باہر سے آنے والے شہریوں کو سفری سہولیات فرہم کریں گے۔
دو بڑے بس سٹیسنشز کے ساتھ مجموعی طور پر ان بسوں کے روٹس کے 11 سٹاپس ہوں گے اور یہ سالانہ 50 لاکھ لوگوں کو سفر کی سہولت دیں گی جن میں عمرہ و حج سے متعلق عازمین بھی شامل ہوں گے۔
آپریٹیز کا کہنا ہے کہ ان بجلی سے چلنے والے بسوں کی سروس کا نظام مکہ کے مستقبل کی ٹرانسپورٹیشن کے سسٹم کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس سے جوڑا جا رہا ہے۔