حضرموت میں ’’ عبوری کونسل ‘‘کی نقل و حرکت یمنی تنازعے کے لیے خطرہ: امریکی رپورٹ
حوثیوں کے خلاف یمنی حکومتی محاذ کے بکھرنے اور اہم گزرگاہوں کے متاثر ہونے سے خبردار کردیا گیا
امریکی جریدے ’’ فارن افیئرز ‘‘نے ایک رپورٹ میں متنبہ کیا ہے کہ یمن میں حالیہ پیش رفت، خاص طور پر جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی ) کی توسیع اور صوبہ حضرموت اور اس کے گردونواح میں اس کی فوجی نقل و حرکت یمنی منظرنامے کو عدم استحکام کے ایک نئے مرحلے کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ تجزیے کے مطابق عبوری کونسل کی حالیہ سرگرمیوں کے سٹریٹجک اثرات یمن میں طاقت کا نقشہ دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ اس سے حوثی مخالف محاذ بکھر سکتا ہے اور ایک زیادہ پرتشدد اور پیچیدہ خانہ جنگی کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ رقبے، وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے حضرموت یمن کے اہم ترین صوبوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے طاقت کے ذریعے وہاں کنٹرول حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے اندرونی اختلافات کو ہوا دے سکتی ہے۔ جنوب میں بے امنی کی یہ صورتحال حوثیوں کو اپنی طاقت بڑھانے، سیاسی و فوجی طور پر آگے بڑھنے اور اندرونی تقسیم کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس کے اثرات پورے خطے بشمول یمن کے پڑوسی ممالک کی سلامتی پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یمن کے معاملے میں دوبارہ سنجیدگی سے مداخلت کرے تاکہ ملک کو دوبارہ ٹوٹنے سے بچایا جا سکے۔ تجزیے کے مطابق واشنگٹن پر اب یہ سیاسی اور سکیورٹی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یمن کو ایک نئے جامع تنازعے میں گرنے سے روک دے کیونکہ اس تنازعع کے براہِ راست اثرات خطے کے استحکام اور اہم سمندری گزرگاہوں پر پڑ سکتے ہیں۔