افسرشاہی مسائل کے باعث بونڈائی بیچ کے ملزم کو بندوق کے لائسنس میں تاخیر ہوئی
لائسنس کے اجراء میں تاخیر کی وجہ شکوک و شبہات نہیں تھے
ریاستی حکومت کے ایک رہنما نے منگل کے روز کہا کہ سڈنی کے بونڈی بیچ کے ایک حملہ آور کو بندوق کا لائسنس حاصل کرنے میں طویل تاخیر کا سامنا افسرشاہی کی ایک غلطی کے باعث کرنا پڑا نہ کہ شکوک و شبہات کی وجہ سے۔
ریاست سے اس بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ 50 سالہ حملہ آور ساجد اکرم کو قانوناً چھے رائفلوں اور شاٹ گن کا لائسنس کیسے ملا۔
ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے سربراہ کرس منز نے منگل کے روز تصدیق کی کہ ساجد نے 2000 میں آتشیں اسلحہ رکھنے کے لیے ریاستی لائسنس کی درخواست دی تھی جو تین سال بعد جاری ہوا۔ جبکہ اس عمل میں عموماً چھے سے 10 ہفتے لگتے ہیں۔
منز نے نامہ نگاروں کو بتایا، ہمارے پاس تازہ ترین معلومات یہ ہیں کہ جب بندوق کے لائسنس اور اس سے متعلق تاخیر کی بات آتی ہے تو حملہ آور والد کی طرف سے "لاحق کوئی خاص خطرہ نہیں بلکہ بیوروکریسی کے سلسلے میں ایک حقیقی مسئلہ تھا۔"
نامہ نگاروں نے پیر کو منز سے پوچھا کہ جب والد نے اپنے سڈنی والے گھر میں بیٹے نوید اکرم کو ساتھ رکھا تو اسے بندوق رکھنے کی اجازت کیوں دی گئی کیونکہ جاسوسی ایجنسی آسٹریلین سکیورٹی انٹیلی جنس آرگنائزیشن نے 2019 میں نوید کے انتہا پسندانہ روابط پر تفتیش کی تھی۔
انہوں نے کہا، "مجھے نہیں معلوم۔ میں ایک ہفتہ، مہینہ، دو سال پیچھے جانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ ایسا نہیں ہوا۔ لیکن ہمیں ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے یہ یقینی ہو کہ دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔"
شاہی کمیشن کے نام سے معروف عوامی تحقیقات کا ایک وسیع اور طاقتور ادارہ جائزہ لے گا کہ آسٹریلیا میں حالیہ قتلِ عام اور غزہ جنگ کے بعد سے یہود دشمنی کن حالات کے باعث عروج پر پہنچی۔
نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمنٹ سے اس ہفتے ایسے قوانین منظور کرنے کا تقاضہ کیا گیا جن کے بارے میں منز نے کہا کہ ریاست کے لیے آسٹریلیا کے سخت ترین اسلحہ قوانین وضع کیے جائیں گے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ حملے کی ویڈیو میں حملہ آوروں کو بظاہر سٹریٹ پُل میکانزم والی بندوقیں استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو بولٹ ایکشن میکانزم کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے فائر کر سکتی ہیں۔
مجوزہ نئے قوانین کے تحت ساجد اکرم جیسے تفریحی شوٹرز کے لیے سٹریٹ پُل والی بندوقیں دستیاب نہیں ہوں گی۔
نئی پابندیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اسلحہ لائسنس کا اہل ہونے کی ایک شرط آسٹریلوی شہریت ہو۔ اس شرط سے ساجد اکرم خارج ہو جاتا جو مستقل رہائشی ویزا کا حامل بھارتی شہری تھا۔
جاسوسی ایجنسیوں کے شکوک سمیت دیگر وجوہات کی بناء پر اگر حکومت اسلحہ لائسنس دینے سے انکار کر دے تو مجوزہ اصلاحات کے تحت اس فیصلے کے خلاف مزید اپیل نہیں کی جا سکتی۔
تفریحی شوٹرز کو زیادہ سے زیادہ چار جبکہ کسانوں اور کھیلوں سے متعلق شوٹرز کو 10 بندوقوں تک کی اجازت ہو گی۔
نیو ساؤتھ ویلز (این ڈبلیو ایس) میں فی الحال کوئی حد نہیں ہے۔ ایک شخص کے نام پر اس وقت 298 بندوقیں رجسٹرڈ ہیں۔
کسانوں کے گروپوں نے شکایت کی ہے کہ بعض لوگوں کے لیے 10 بندوقیں کافی نہیں ہوں گی۔ دیہی ووٹرز کی نمائندہ نیشنلز پارٹی نے مجوزہ قوانین کی مخالفت کی۔
پارٹی نے ایک بیان میں کہا، "این ڈبلیو ایس نیشنلز کی پارلیمانی ٹیم اس بل کی حمایت نہیں کرے گی جس میں اسلحہ اصلاحات کو یہود دشمنی کا اصل مسئلہ حل کرنے کے بجائے سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔"
بونڈائی بیچ کے متأثرین کی آخری رسومات منگل کو بھی جاری رہیں۔ سڈنی کے ایک کیتھولک چرچ میں 82 سالہ ماریکا پوگنی کے لیے سروس منعقد کی گئی۔ وہ خود عیسائی لیکن ان کی والدہ یہودی اور سڈنی کی یہودی برادری کے قریب تھیں۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے 12 افراد ہنوز ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔
-
بونڈائی بیچ حملہ آوروں نے پہلے دیسی ساختہ بم پھینکے لیکن وہ پھٹنے میں ناکام رہے: پولیس
آسٹریلوی وزیرِ اعظم کا قوانین مزید سخت کرنے کا عزم
بين الاقوامى -
آسٹریلیا کی طرف سے اسرائیل کے صدر اسحاق ہرتصوغ کو دورے کی دعوت
اسرائیلی صدر نے دعوت قبول کر لی ہے
بين الاقوامى -
ٹیکساس میں میکسیکن بحریہ کا طیارہ گر کر تباہ، کم از کم پانچ افراد ہلاک
طیارہ طبی مشن پر تھا، ٹیکساس کے ساحل کے قریب تلاش شروع
بين الاقوامى