لیبی فوجی سربراہ کے طیارے کے بلیک باکس کا تجزیہ کسی غیر جانبدار ملک میں کریں گے: ترکیہ

ڈیٹا کے تجزیے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترک حکام نے اعلان کیا ہے کہ منگل کی شام انقرہ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے طیارے کا بلیک باکس کسی غیر جانبدار ملک میں چیک کیا جائے گا ۔ اس طیارے میں لیبیا کے فوجی سربراہ اور ان کے ساتھی سوار تھے۔

ترک وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر اورال اوغلو نے ’’ ایکس ‘‘پر بتایا کہ ابتدائی معائنے کے بعد طیارے کی تباہی کی وجہ معلوم کرنے کے لیے وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کا تجزیہ ایک غیر جانبدار ملک میں کیا جائے گا۔ ڈیٹا کے تجزیے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

قبل ازیں ترک وزیر داخلہ علی یرلی کایا نے حادثے کی جگہ کا دورہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طیارے کا بلیک باکس اور وائس ریکارڈر مل گیا ہے اور ماہرین نے ان کا معائنہ شروع کر دیا ہے۔ یہ حادثہ دارالحکومت سے تقریباً 50 کلومیٹر دور پیش آیا۔ اس حادثے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے جن میں لیبیا کی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل محمد الحداد اور ان کے چار ساتھی اور عملے کے تین ارکان جاں بحق ہوئے ۔ طیارہ ’’ فالکن- 50 ‘‘ ٹیک آف کے 40 منٹ سے بھی کم وقت میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

بجلی کی خرابی

وزیر داخلہ نے دوبارہ تصدیق کی کہ طیارے نے اڑان بھرنے کے 15 منٹ بعد الیکٹریکل فالٹ کی اطلاع دی تھی۔ طیارے نے واپسی کا اشارہ دیا تھا لیکن 20 منٹ بعد ’’ ہیمانہ ‘‘ کے علاقے میں اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ موسم کی خرابی کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر عوامل بھی حادثے کی وجہ بن سکتے ہیں۔ ان عوامل کی تفصیلات بلیک باکس سے واضح ہوں گی۔ انقرہ کی پراسیکیوشن نے اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واضح رہے جنرل الحداد اپنے ترک ہم منصب کی دعوت پر انقرہ کے سرکاری دورے پر تھے اور انہوں نے منگل کو ترک وزیر دفاع اور دیگر حکام سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں