21 ملکوں اور او آئی سی نے اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا مسترد کردیا

عرب لیگ آج صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کی سنگینی پر غور کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

21 ملکوں اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کے خطے کو تسلیم کرنے کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ اور یمن کے وزراء خارجہ اور اسلامی تعاون تنظیم نے صومالیہ میں واقع "صومالی لینڈ" کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اعلان کو قطعی طور پر مسترد کرنے کی تصدیق کی ہے۔ یہ فیصلہ ’’ قرن افریقہ‘‘ اور بحیرہ احمر کے خطے میں امن و سلامتی پر اس بے مثال اقدام کے سنگین اثرات اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر اس کے خطرناک اثرات کے پیش نظر کیا گیا ہےجو بین الاقوامی قانون سے اسرائیل کی مکمل لاپرواہی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس اعتراف کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون کے قواعد اور اقوام متحدہ کے اس چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جو ریاستوں کی خودمختاری اور ان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ وزرا نے صومالیہ کی خودمختاری کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا اور کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کردیا جو صومالیہ کی وحدت، علاقائی سلامتی اور اس کی پوری سرزمین پر خودمختاری میں خلل ڈالے۔

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ ریاستوں کے علاقوں کے حصوں کی آزادی کو تسلیم کرنا ایک خطرناک مثال ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے مستحکم اصولوں کے لیے خطرہ ہے۔ وزراء نے اس اقدام اور فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے باہر نکالنے کے کسی بھی منصوبے کے درمیان تعلق کو دو ٹوک انداز میں مسترد کیا ۔

یورپی یونین نے بھی ہفتے کے روز صومالیہ کے آئین اور یورپی و افریقی یونین کے چارٹرز کے مطابق صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی تصدیق کی ہے۔ یورپی یونین نے صومالی لینڈ اور صومالی حکومت کے درمیان زیر التوا اختلافات کے حل کے لیے تعمیری مذاکرات کی اپیل کی ہے۔

دوسری طرف قاہرہ میں مستقل مندوبین کی سطح پر عرب لیگ کا کونسل کا ہنگامی اجلاس آج اتوار کو سیکرٹریٹ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوگا تاکہ ایک آزاد ریاست کے طور پر صومالی لینڈ کو اسرائیلی تسلیم کیے جانے کی سنگینی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ یہ اجلاس عرب لیگ میں صومالیہ کے مستقل مندوب کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔

توقع ہے کہ اجلاس میں اس اقدام کے جواب کے طریقے زیر بحث آئیں گے۔ اس میں علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ہم آہنگی اور صومالیہ کی وحدت کی حمایت میں عرب موقف کی توثیق کی جائے گی۔ صومالی وزیر اطلاعات داؤد اویس جامع نے ’’ العربیہ‘‘کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری پر کھلا حملہ ہے اور یہ خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کسی بھی ایسے غیر ملکی فوجی اڈے کے قیام کی اجازت نہ دینے پر زور دیا جو ملک کو تنازعات میں گھسیٹ سکے ۔ انہوں نے اسرائیلی اعلان کو صومالی خودمختاری پر جان بوجھ کر کیا گیا حملہ قرار دیا۔

صومالی وزیر اطلاعات نے امریکہ کے اس موقف کا خیرمقدم کیا جس میں اس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے میں اسرائیل کی پیروی نہیں کی اور اسے ایک منصفانہ موقف قرار دیا۔ دوسری طرف مصر نے بھی اس یکطرفہ اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جو ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو متاثر کرتے ہیں۔ مصری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اسرائیل کے اس یکطرفہ اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور قرن افریقہ میں عدم استحکام کا سبب قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں