سپین نے غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں میں کرایے کے گھروں کے اشتہارات ہٹانے کی ہدایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سپین کی بائیں بازو کی حکومت نے سات آن لائن پلیٹ فارمز کو حکم دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں میں چھٹیاں گذارنے کے لیے کرائے کے 100 سے زائد مکانات کے اشتہاری مندرجات ہٹا دیں۔

وزارت برائے امورِ صارفین نے منگل کو کہا کہ انہوں نے سپین میں چلنے والے پلیٹ فارمز پر 138 مندرجات کی نشاندہی کی اور کمپنیوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ اس مواد کو "فوراً ہٹا دیں یا بلاک کر دیں"۔

زیادہ تر بین الاقوامی برادری مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کرتی ہے جبکہ اسرائیل انہیں زیادہ تر قانونی تصور کرتا ہے۔

ہدایت کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں پلیٹ فارمز کو مزید حکومتی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے البتہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

یہ پیش رفت ان اقدامات کا حصہ ہے جو سوشلسٹ وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت نے فلسطینیوں کی حمایت اور غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کی مذمت کے لیے اپنائے ہیں۔

اکتوبر میں قانون سازوں کے منظور کردہ حکم نامے میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر اور اُن مصنوعات کی تشہیر پر پابندی شامل ہے جو غزہ اور مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی بستیوں سے آتی ہیں۔

وزیر برائے امورِ صارفین پابلو بسٹینڈوئے نے کہا کہ جائیدادوں کے ان مندرجات سے "عالمی قانون کے تحت غیر قانونی نوآبادیاتی حکومت کو معمول پر لانے اور برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔"

اکتوبر میں فرانس کی ہیومن رائٹس لیگ نے Airbnb اور بکنگ ڈاٹ کام کے خلاف قانونی شکایات درج کیں جن میں ان پر اسرائیلی آبادیوں میں جائیدادوں کے ذریعے "قبضے کی سیاحت" کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا۔

سپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور یہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کا ایک سب سے بڑا یورپی ناقد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں