ہم غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کے مخالف نہیں: اسرائیلی ذریعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک اسرائیلی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ تل ابیب غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کی مخالفت نہیں کرتا۔ ذریعہ نے کہا اس مرحلے پر عمل درآمد کی تیاری کے طور پر آخری یرغمالی کی لاش کی واپسی کی توقع ہے۔ ذریعے نے واضح کیا کہ تحریک حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطلب راکٹوں اور گولوں کا خاتمہ اور سرنگوں کی تباہی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ذریعے نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ نئے ایٹمی معاہدے تک پہنچنے کا بھی مخالف نہیں ہے۔ واضح رہے امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے ، جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا، کے تحت حماس نے آخری 20 زندہ یرغمالیوں کو حوالے کر دیا تھا اور اب تک 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں میں سے 27 کی باقیات بھی حوالے کر دی ہیں۔

لاشوں کی واپسی

تمام لاشیں واپس کر دی گئی ہیں سوائے 24 سالہ اسرائیلی ’’ ران غفیلی ‘‘ کی لاش کے جو نقب کے علاقے میں خصوصی پٹرولنگ یونٹ کا رکن تھا۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی دھڑوں پر لاش کی حوالگی میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دو سالہ تباہ کن جنگ کے نتیجے میں لگنے والے ملبے کے بڑے ڈھیروں کی وجہ سے لاشیں نکالنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

کمزور جنگ بندی

یاد رہے گزشتہ 10 اکتوبر سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک کمزور جنگ بندی جاری ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ، جس نے اس معاہدے کی سرپرستی کی تھی، دونوں پر معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ منتقلی پیچیدہ ہوگی۔ فریقین اب بھی اگلے اقدامات پر اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کے مستقبل کے کسی بھی انتظامی کردار سے حماس کو دور رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف حماس اپنے ہتھیار چھوڑنے سے انکار کر رہی ہے اور غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں