یورپی رہنما آج روس اور یوکرین کے درمیان امن کوششوں پر بات چیت کر رہے ہیں

یہ بات چیت ماسکو اور کئیف کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بیچ ہو رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی رہنماؤں کے درمیان آج بروز منگل ان امن کوششوں پر بات چیت ہونی ہے جن کی قیادت امریکہ کر رہا ہے۔ یہ مشاورت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ماسکو اور کئیف کے درمیان تناؤ میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ روس کا یہ دعویٰ ہے کہ ایک جھیل کے کنارے واقع صدر ولادی میر پوتین کی رہائش گاہ کو ڈرون طیاروں کے ذریعے بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم یوکرین نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

پولینڈ کی حکومت کے ترجمان 'آدم شلابکا' کا کہنا ہے کہ اس ورچوئل یورپی اجلاس میں ان رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے جنہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں برلن میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لیا تھا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس اجلاس میں کون کون شریک ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ اتوار کو ریاست فلوریڈا میں واقع اپنے ریزورٹ میں یوکرینی ہم منصب ولودی میر زیلنسکی کی میزبانی کے بعد ... یہ یورپی رہنماؤں کا پہلا اجلاس ہے۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یوکرین اور روس امن کے تصفیے کے "اب تک کے سب سے قریب" پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ابھی کچھ رکاوٹیں باقی ہیں جو کسی معاہدے کی راہ میں حائل ہو سکتی ہیں۔

دریں اثنا روس اور یوکرین کے حکام نے ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کیے ہیں۔ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ اتوار کو ٹرمپ اور زیلنسکی کی ملاقات ختم ہوتے ہی یوکرین نے روس کے شمال مغرب میں واقع صدر کی رہائش گاہ کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے 91 ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

ان الزامات اور جوابی دعوؤں نے امن کوششوں کے پٹری سے اترنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ گذشتہ پیر کو صدر پوتین سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس مبینہ حملے کی اطلاع ملنے پر ٹرمپ نے کہا کہ "مجھے یہ پسند نہیں آیا۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔" دوسری جانب یوکرینی وزیر خارجہ 'اندریہ سیبیہا' نے آج منگل کو اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ روس نے ابھی تک اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی "معقول ثبوت" پیش نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ماسکو ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کرے گا "کیونکہ درحقیقت ایسا کوئی حملہ ہوا ہی نہیں".

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں