میں نے اسے جوتے سے مارا: برطانوی ملکہ کامیلا، کم عمری میں جنسی ہراساں کیے جانے کا انکشاف
میں اپنی کتاب پڑھ رہی تھی کہ اس لڑکے نے مجھ پر حملہ کر دیا اور میں نے اس کا مقابلہ کیا: بی بی سی کو انٹرویو
برطانوی ملکہ کامیلا نے پہلی مرتبہ ایک ایسے شخص کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بات کی ہے جس نے نوعمری کے دوران ٹرین میں ان پر جنسی حملے کی کوشش کی تھی۔ یہ بات انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے ’’ بی بی سی ‘‘کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ۔ انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح اس حملے نے انہیں غصے میں چھوڑ دیا تھا۔ خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں ایک بحث میں انہوں نے کہا جب میں نوعمر تھی، تو ٹرین میں مجھ پر حملہ ہوا تھا، مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں بہت غصے میں تھی۔
ملکہ کامیلا نے مزید کہا کہ میں اپنی کتاب پڑھ رہی تھی اور اس لڑکے - مرد - نے مجھ پر حملہ کیا اور میں نے اس کا مقابلہ کیا۔ میں اس شخص کو نہیں جانتی تھیں جس نے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ واضح رہے 78 سالہ ملکہ کامیلا برسوں سے فلاحی اداروں اور جنسی و گھریلو تشدد کے خاتمے کے مقاصد اور ان حملوں کے متاثرین کی حمایت کر رہی ہیں۔ کامیلا پر اس حملے پہلی مرتبہ ستمبر میں اس وقت پتہ چلا تھا جب اخبار "ٹائمز" میں شاہی خاندان کے بارے میں ایک کتاب شائع ہوئی تھی۔ لیکن بکنگھم پیلس نے پہلے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔
کامیلا نے بی بی سی کو بتایا کہ مجھے یاد ہے جب میں ٹرین سے اتری اور میری ماں نے میری طرف دیکھا اور مجھ سے کہا تم اتنی خوفزدہ کیوں ہو اور تمہارے کوٹ کا بٹن کیوں ٹوٹا ہوا ہے؟۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں اس بات پر بہت غصے میں تھی اور یہ بات کئی سالوں تک میرے اندر ہی رہی۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ لندن کے پیڈنگٹن سٹیشن جانے والی ٹرین میں اس وقت پیش آیا جب کامیلا سولہ یا سترہ سال کی تھیں۔ انہوں نے اس شخص کا مقابلہ اپنا جوتا اتار کر اسے مار کر کیا تھا۔
کتاب میں ذکر کیا گیا ہے کہ جب وہ پیڈنگٹن پہنچیں تو انہوں نے ایک اہلکار کے سامنے حملہ آور کی طرف اشارہ کیا تاکہ اسے گرفتار کیا جا سکے۔ کامیلا نے حالیہ انٹرویو میں ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ یاد رہے کامیلا کنگ چارلس کی دوسری بیوی ہیں۔ کنگ چارلس نے 2022 میں برطانیہ کی بادشاہت سنبھالی ہے۔