اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُر عزم ہے اور انہوں نے 2026 کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن سال قرار دیا۔
زامیر نے غزہ کے دورے کے دوران فوجیوں سے کہا کہ2026 اسرائیل کی سلامتی کے حقائق کے تعین کے حوالے سے فیصلہ کن سال ہو گا۔ ہم مکمل طور پر پُر عزم ہیں کہ حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو غیر مسلح کریں۔ ہم دہشت گرد حماس کو اپنی صلاحیتیں دوبارہ بنانے اور ہمیں دھمکانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
چند روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہ مسئلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا میں ملاقات کے دوران اٹھایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو یقین دلایا کہ اگر وہ (حماس) اپنا ہتھیار نہ چھوڑیں، جو کہ انہوں نے تسلیم کیا ہے، تو انہیں بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں اپنے ہتھیار قلیل مدت کے اندر ترک کرنے ہوں گے۔
تاہم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے زور دیا کہ "جب تک اسرائیلی قبضہ باقی ہے"، وہ اپنا ہتھیار نہیں چھوڑیں گے.
حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے مطابق، اسرائیلی فوج کو غزہ میں اپنی پوزیشنز سے واپس ہونا ہے، جبکہ حماس کو اپنے ہتھیار چھوڑنے ہیں، جو کہ اس وقت ایک اہم التواء کا شکار مسئلہ ہے۔
غزہ کی پٹی میں 10 اکتوبر کے بعد نرم جنگ بندی قائم ہے، جس کے بعد اسرائیل اور حماس نے واشنگٹن کی حمایت یافتہ 20 نکاتی روڈ میپ پر اتفاق کیا تاکہ دو سال سے جاری لڑائی کو ختم کیا جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیل انتظار کر رہا ہے کہ وہ سپاہی ران غفیلی کی لاش واپس لے، جو آخری قیدی ہے تاکہ اس کے بعد دوسرے مرحلے کے معاہدے کے مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔