سوئٹزر لینڈ کے سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں آتشزدگی سے 40 ہلاکتیں

ہمارے 16 شہری آتشزدگی کے واقعے میں اب تک لاپتا ہیں: اطالوی وزیر خارجہ کا ٹی وی بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوئٹزر لینڈ کے کینٹن والے کے پولیس کمانڈر کا کہنا ہے کہ سکی ریزورٹ کے بار میں آتشزدگی سے قریب 40 افراد ہلاک جبکہ 115 زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تایانی نے جمعرات کے روز بتایا کہ ان کے 16 شہری سوئٹزر لینڈ کے پب میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد سے لاپتا ہیں جبکہ 12 زخمی اطالوی شہریوں کا ہسپتال میں علاج معالجہ جاری ہے۔

"سکائی ٹی جی 24 ٹی وی" سے بات کرتے ہوئے انتونیو نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید مزید اطالوی شہری زندہ نہ ہوں، تاہم غیر واضح صورت حال میں کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

دھماکہ تقریباً ڈیڑھ بجےاس پب ''لو کونستیلاسیون'' میں ہوا، جہاں بڑی تعداد میں سیاح نئے سال کے جشن کے لیے موجود تھے۔
سوئس میڈیا کی جانب سے نشر کی گئی تصاویر میں عمارت میں آگ لگی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ریسکیو ٹیمیں بھی موجود ہیں۔

پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں کے لیے علاقے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور ریزورٹ کی فضائی حدود بھی بند کر دی گئی ہے تاکہ ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹ نہ آئے۔

سوئٹزر لینڈ کے صدر گائے پرملن کا کہنا ہے کہ ایک سکی ریزورٹ کے شراب خانے میں آتشزدگی کا واقعہ ملکی تاریخ کے ’بدترین سانحوں میں سے ایک ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں لاشوں کی شناخت ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی تاکہ انھیں لواحقین کے حوالے کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں کئی جانوں کا ضیاع ہوا ہے جبکہ قریب ایک سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

سوئس صدر کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے کئی لوگوں کی زندگیاں ’ہمیشہ کے لیے رُک گئی ہیں‘ اور کئی لوگوں کو تاحیات نقصان جھیلنا پڑے گا۔ انھوں نے متاثرین اور خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔

گائے پرملن نے مدد کی پیشکش پر فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی متاثرین کے خاندانوں سے رابطوں کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سکی ریزورٹ کے بار میں آگ کیسے لگی تھی۔

مقامی حکومت کے سربراہ میتھائس رینارڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ’کئی درجن افراد‘ ہلاک ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ حکام اب بھی معلومات کے منتظر ہیں مگر ان کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کی شناخت میں وقت لگ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں