الجزائر میں نئے سال کی مٹھائیوں کی فروخت پر پابندی کے فیصلے پر تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

الجزائر کی ایک بلدیہ کے سربراہ کی جانب سے جاری کردہ انتظامی فیصلے نے سوشل میڈیا پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فیصلے میں سال کے آخر کی ایک خاص مٹھائی کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت جرمانے مقرر کیے گئے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اسے ذاتی اور مذہبی آزادیوں میں مداخلت قرار دیا جس کے بعد مقامی عہدیدار نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا اور اسے جاری ہونے کے چند دن بعد منسوخ کر دیا۔

مغربی الجزائر کے صوبے سیدی بلعباس کی بلدیہ تلاغ کے سربراہ کے فیصلے کے متن کے مطابق تجارتی دکانوں اور مٹھائی کے مراکز میں کرسچن ٹری ٹرنک کیک کی فروخت پر مکمل پابندی لگائی گئی تھی۔ فیصلے کی دوسری شق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں دکان کو 30 دن کے لیے بند کر دیا جائے گا اور 20 ہزار الجزائری دینار (تقریباً 85 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

تنقید کی وسیع لہر

بلدیہ کے سربراہ نے ڈسٹرکٹ سکیورٹی چیف، نیشنل جینڈرمیری کے دستے کے سربراہ ٹریڈ انسپکٹریٹ کے سربراہ اور بلدیاتی صحت و صفائی کے ادارے کو اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ جلد ہی اس فیصلے نے سوشل میڈیا پر تنقید کی ایک لہر پیدا کر دی جہاں مخالفین نے اسے ذاتی آزادیوں اور مذہبی عقائد پر حملہ قرار دیا اور مذہبی تقریبات کے معاملات میں مداخلت کرنے کے حوالے سے بلدیہ کے سربراہ کے اختیارات پر سوال اٹھائے۔

بہت سے لوگوں نے اس فیصلے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ بلدیہ کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے جو زیادہ اہم ہیں۔ دوسری جانب کچھ تبصرہ نگاروں نے بلدیہ کے سربراہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقے کے قدامت پسند مزاج کا احترام کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس شدید تنازع کے پیش نظر بلدیہ تلاغ کے سربراہ نے یکم جنوری 2026 کی شام کو ایک نیا فیصلہ جاری کیا جس کے تحت مٹھائی کی فروخت پر پابندی کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا۔

مذاہب اور عقائد کا احترام

اس تناظر میں سماجی ماہر عبد الحفیظ صندوقی نے کہا کہ الجزائر میں مذاہب اور عقائد کا احترام قانون کی طاقت سے محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی عہدیدار نے کچھ مذہبی رہنماؤں کی جانب سے غیر اسلامی تہوار نہ منانے کی اپیلوں اور قانون کی جانب سے ہر فرد کو حاصل عقیدے کی آزادی کے درمیان فرق کو خلط ملط کر دیا۔ صندوقی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو دیے گئے ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ فیصلہ، چاہے جان بوجھ کر ہو یا غیر ارادی طور پر، ایک ایسی سماجی بحث اور اختلاف پیدا کر کے ایسے منفی اثرات چھوڑ گیا جن کی ہمیں ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئے سال کی تقریب منانا یا نہ منانا ایک ذاتی انتخاب ہے جس سے دوسرے متاثر نہیں ہوتے۔ الجزائری معاشرہ افراد کی آزادی اور دوسروں کی آزادی کے احترام کے درمیان توازن کا عادی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ وابستہ تنازع اور پھر اس کی منسوخی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نئے سال کے جشن کو بہت سے لوگ مذہبی سے زیادہ ایک عالمی جشن کے طور پر دیکھتے ہیں اور ایسے فیصلوں سے گریز کرنا معاشرے کو ایک وسیع بحث سے بچا سکتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں