زمین کے موسموں کا تسلسل ہم آہنگ نہیں ہے: نئے عالمی نقشے میں انکشاف
موسموں کو سادہ چار حصوں میں دیکھنا ایک بڑی غلط فہمی، قدرتی تقویم زیادہ پیچیدہ ہے: نئی تحقیق
کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق نے خلا سے زمین کے موسموں کی نگرانی کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ بہار، گرمی، خزاں اور سردی کا تسلسل اتنا ہم آہنگ نہیں ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں، بلکہ یہ پڑوسی علاقوں کے درمیان بھی نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔ ویب سائٹ ’’ سائنس الرٹ ‘‘نے جریدے ’’ نیچر ‘‘ کے حوالے سے شائع کیا ہے کہ عرض بلد، بلندی یا ایک ہی نصف کرے سے تعلق کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں موسموں کا وقت بھی ایک ہی ہو۔
نتائج نے ظاہر کیا ہے کہ بہت قریب واقع علاقے مختلف موسمی اور ماحولیاتی نمونوں سے گزر سکتے ہیں۔ گویا قدرت نے اپنے مخصوص ’’ موسمی ٹائم زونز ‘‘ بنا رکھے ہیں۔ تحقیق کے مرکزی محقق اور بائیو جیوگرافر درو تیراساکی ہارٹ نے کہا کہ موسموں کو چار حصوں پر مشتمل ایک سادہ تال کے طور پر دیکھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ قدرتی تقویم اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ خاص طور پر متنوع جغرافیہ والے ماحول میں یہ پیچیدگی زیادہ ہے جس کے ماحول اور ارتقا پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
غیر معمولی نقشہ
20 سالہ سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ٹیم نے زمینی ماحولیاتی نظام میں موسموں کے وقت کا اب تک کا سب سے جامع عالمی نقشہ تیار کیا ہے۔ نقشے نے ان علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں موسمی عدم مطابقت واضح ہے اور یہ علاقے اکثر حیاتیاتی تنوع کے مراکز ہوتے ہیں کیونکہ وسائل کی دستیابی کے وقت کا فرق رہائش گاہوں کے اندر زیادہ تنوع پیدا کر سکتا ہے۔ اس کا اثر یہاں تک پہنچ سکتا ہے کہ ایک ہی نوع کے جانوروں یا پودوں کے افزائشِ نسل کے موسم دو پڑوسی علاقوں میں مختلف ہو سکتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ان کے درمیان ملاپ کو روک کر نئی اقسام کے پیدا ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
قریبی شہر، دور دراز کے موسم
تحقیق میں ریاست ایریزونا کے دو شہروں فینکس اور ٹوسان کی مثال دی گئی ہے۔ ان کے درمیان فاصلہ صرف 160 کلومیٹر ہے لیکن ان کے سالانہ موسمی چکر ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ ٹوسان اپنی زیادہ تر بارش گرمیوں میں مون سون کے دوران حاصل کرتا ہے جبکہ فینکس میں بارشیں جنوری میں ہوتی ہیں جس کا اثر ان کے ماحولیاتی نظام پر پڑتا ہے۔
تاخیر سے آنے والے بحیرہ روم کے نمونے
نقشے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بحیرہ روم کی آب و ہوا والے علاقے، کیلیفورنیا سے چلی، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور بحیرہ روم کے خطے تک دیگر ماحولیاتی نظاموں کے مقابلے میں تقریباً دو ماہ بعد جنگلات کی نشوونما کے عروج پر پہنچتے ہیں جس کی وجہ خشک گرمیاں اور معتدل نم آلود سردیاں ہیں۔ عالمی نقشے نے پودوں کے پھولنے اور فصلوں کی کٹائی کے موسموں کی پیچیدگی کی بھی وضاحت کی ہے۔ کولمبیا کی مثال دی گئی جہاں پہاڑوں کے درمیان صرف ایک دن کی مسافت پر واقع فارموں کے درمیان افزائشِ نسل کے چکر ایسے مختلف ہو سکتے ہیں جیسے وہ زمین کے دو مخالف حصوں میں ہوں۔
محققین نے ماحول اور انسانی صحت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی پیش گوئی کرتے وقت موسموں کے سادہ ماڈلز پر انحصار کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ کوپن ہیگن یونیورسٹی کے مائکروبیل ماہر لاسہ ریمن نے کہا کہ قطب شمالی میں کائی (الجی) کی پیداوار میں اضافے جیسی باریک موسمی تبدیلیاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زیادہ جذب ہونے کا سبب بن سکتی ہیں جس کے لیے موسمیاتی ماڈلز میں مزید باریک حیاتیاتی تفصیلات شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
تیراساکی ہارٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس موسمی تنوع کو نظر انداز کرنا حیاتیاتی تنوع کی بنیادی سمجھ کو دھندلا دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ نظریہ ارتقائی حیاتیات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطالعے کے لیے نئی راہیں کھولتا ہے اور اس کے اثرات زراعت اور وبائی امراض جیسے شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔