ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریز نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ غزہ میں تعمیر نو کا کام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے جمعہ کے روز فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد مصطفی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ اسی دوران انہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے بارے اظہار خیال کیا ہے۔ اسی دوران مقبوضہ مغربی کنارے کی تازہ صورت حال بھی زیر بحث لائی گئی۔
سپین کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر اس امر پر بھی فوکس کیا کہ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کنارے اور غزہ سے اسرائیلی قبضہ ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
نیز یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر کیے جانے والے پر تشدد حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباو ڈالا جائے۔
انہوں نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے فنڈز کو روکے جانے کا ذکر کیا اور کہا اسرائیل کو چاہیے کہ فلسطینیوں کے فنڈز واپس کرے۔
غزہ کے حوالے سے سپین کے وزیر خارجہ نے کہا جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ کی تعمیر نو کے مرحلے کو شروع کیا جائے۔ ان کے بقول یورپ کو اس سلسلے میں نمایاں کردار ادا کرنا ہوگا۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے فلسطینیوں کے اتحاد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ وہ ہسپانوی وزیر خارجہ کی طرف سے فلسطینی اداروں کو یکجا کرنے کے بارے میں بات کا جواب دے رہے تھے۔ اس دوران پچھلے سال سامنے آنے والے نیو یارک ڈکلیریشن پر بات کر رہے تھے۔
ہسپانوی وزیر خارجہ نے فلسطینی کی صورتحال اور غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بین الاقوامی برادری اور ملکوں کو کوآرڈینیشن پر بھی زور دیا۔
یاد رہے سپین ان یورپی ملکوں میں سے ایک ہے جس نے مئی 2024 میں فلسطینی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کے لیا تھا۔ ناروے اور آئر لینڈ نے بھی اس کے ساتھ ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی سٹیفن سلامہ جلد ہی سپین کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ مغربی کنارے کے شہروں ، قصبوں اور پناہ گزین کیمپوں پر اسرائیلی فوج کی کارروائیاں ہفتے کے روز بھی جاری رہیں اور فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے۔ 'اے پی' کے مطابق حالیہ دنوں میں کم از کم 50 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔