امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کی شام اشارہ دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مغربی نصف کرے میں امریکی بالادستی بحال کرنے کی کوششوں کے تحت کیوبا اگلا ہدف بن سکتا ہے۔
روبیو نے کہا کہ اگر وہ کیوبا کی حکومت میں کسی عہدے پر ہوتے تو وینزویلا میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائی کے بعد جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری عمل میں آئی، وہ کم از کم کچھ حد تک ضرور فکر مند ہوتے۔
وینزویلا اور کیوبا دونوں میں طویل عرصے سے دلچسپی رکھنے والے روبیو نے کہا:اگر میں ہوانا میں رہتا اور حکومت کا حصہ ہوتا تو کم از کم کچھ نہ کچھ تشویش ضرور ہوتی۔
واضح رہے کہ امریکا کی لاطینی امریکا میں فوجی مداخلتوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جن میں 1961 میں کیوبا میں فیڈل کاسترو کی حکومت گرانے کے لیے کیوبا کے جلاوطنوں کے ذریعے کیا گیا ناکام خلیجِ خنزیر (Bay of Pigs) حملہ بھی شامل ہے، جسے امریکا کی بالواسطہ حمایت حاصل تھی۔