الجزائری خواتین کی غیر ملکیوں سے شادی کا سکینڈل، انسانی سمگلروں کا تعاقب شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

الجزائر میں سکیورٹی حکام نے گزشتہ دو دنوں کے دوران الجزائری خواتین کی غیر ملکیوں سے شادی کا معاملہ اٹھایا ہے اور اسے مہاجرین کی سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ کے جرائم میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے ان ملوث افراد کے تعاقب کا حکم دیا ہے جو خواتین کو دھوکہ دے کر ان سے ترک باشندوں سے شادی کے وعدے کرتے تھے۔ اس تناظر میں غلیزان صوبے کی سکیورٹی سروسز نے حال ہی میں ایک بیان میں ہر اس شخص کو، خواہ وہ شکار ہو یا گواہ، ایک مطلوبہ خاتون کی طرف سے ترکیہ میں الجزائری خواتین کی ترک باشندوں سے شادی کرانے کے کیس میں شرکت دعوت دی ہے۔

بیان میں اس ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ شکایت درج کرانے یا اس کیس میں گواہی دینے کے لیے زمورہ عدالت میں پراسیکیوٹر آفس سے رجوع کریں یا غلیزان صوبے کی سکیورٹی سروسز جن میں جوڈیشل پولیس کی صوبائی سروس اور مہاجرین کی سمگلنگ اور انسانی سمگلنگ کے انسداد کا سکواڈ شامل ہے سے رابطہ کریں۔ اسی طرح ملک بھر میں قریبی پولیس سٹیشن سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ نے چند ہفتے قبل غیر ملکیوں کے ساتھ الجزائری خواتین کی شادی کی فائل کھولی تھی۔ اس معاملے میں سوشل میڈیا پر غیر ملکیوں سے شادی کی خواہش مند خواتین کے لیے دھوکہ دہی پر مبنی دعوتیں دی جاتی تھیں اور ان کے لیے سفر کے طریقہ کار میں آسانی پیدا کی جاتی تھی۔ بعد میں ان سے رقوم کا مطالبہ کیا جاتا اور پھر ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی جاتی تھی۔ ان خواتین کو دیگر ملکوں میں لے جاکر یا اس سے قبل ہی فراڈ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ورغلا کر دھوکہ دہی

اس حوالے سے سماجی ماہر یوسف بن مراد نے کہا کہ اس قسم کی دھوکہ دہی میں جذبات اور حقیقت سے مشابہ کہانیوں کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ شکار کو پھنسایا جا سکے۔ الجزائری خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو غیر ملکیوں سے شادی کے لالچ میں مائل کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ان کی تعریف کی جاتی ہے یا اپنی مالی حالت بہتر بنانے کے شوق میں یا دیگر وجوہات کی بنا پر سفر کرنے کی رغبت دی جاتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی دھوکہ باز براہ راست یا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے شکار سے رابطہ کرتا ہے، وہ اس کے لیے ایک غیر ملکی شوہر کے ساتھ اس کے مستقبل کے بارے میں سنہرے خواب بنتا ہے۔ اسے اس خواب کی تکمیل کے لیے رقم ادا کرنے پر راضی کرنے کا بہترین راستہ تلاش کرتا ہے۔ شکار سے سفر کے اخراجات کی ادائیگی کے بہانے ہو یا ثالث کے کمیشن کے طور پر رقوم طلب کی جاتی ہیں۔

یوسف بن مراد نے اس ضرورت پر زور دیا کہ شادی کو ایک انسانی منصوبہ سمجھا جائے نہ کہ مادی کیونکہ دو افراد صرف مادی فوائد حاصل کرنے کے لیے نہیں جڑ سکتے۔ انسانی سمگلنگ کے جرم کے بارے میں وکیل فرید صابری نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے انسانوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی سمگلنگ کو روکنے، دبانے اور سزا دینے کے لیے ایک پروٹوکول وضع کیا ہے جو منظم جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کا تکمیلی حصہ ہے۔ انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ الجزائر ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 9 نومبر 2003 کے صدارتی حکم نامے کے تحت تحفظات کے ساتھ اس پروٹوکول کی توثیق کی تھی اور یہ توثیق 25 فروری 2009 کے قانون نمبر 09-01 کے ذریعے الجزائر کے تعزیرات کے قانون میں ترمیم کا پیش خیمہ تھی۔ انسانی اعضاء کی سمگلنگ کو بھی جرم قرار دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں