'مجھ پر بہتان بازی بند کریں': کولمبیا کے صدر نے ٹرمپ کی دھمکیاں مسترد کر دیں

ٹرمپ نے انہیں منشیات کا سمگلر قرار دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے اتوار کو اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا جنہوں نے ان پر منشیات کا سمگلر ہونے کا الزام بھی لگایا۔

امریکی افواج نے ہفتے کی صبح کاراکاس پر حملہ کیا اور ایک چھاپے کے دوران فوجی اہداف پر بمباری کی۔ انہوں نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا دیا اور تیل کی دولت سے مالا مال جنوبی امریکی ملک کو واشنگٹن کے کنٹرول میں لے لیا۔

اتوار کو صدارتی طیارہ ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کولمبیا کے خلاف ایسی ہی فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیں اور کہا، جنوبی امریکی ملک "بھی بہت بیمار" ہے اور اسے "ایک بیمار آدمی چلا رہا ہے جو کوکین بنانا اور اسے امریکہ کو فروخت کرنا پسند کرتا ہے۔"

ٹرمپ نے مزید کہا، "ان کے پاس کوکین کی ملز اور کارخانے ہیں اور وہ زیادہ دیر تک یہ کام نہیں کر سکیں گے۔"

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وینزویلا کی طرح کولمبیا میں بھی امریکہ کی فوجی مداخلت کا امکان ہے تو ریپبلکن رہنما نے کہا: "میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔"

"پتا ہے کیوں؟ کیونکہ اس سے بہت زیادہ لوگ مر جاتے ہیں،" ٹرمپ نے بغیر ثبوت کے دعویٰ کیا۔

پیٹرو نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے سختی سے کہا، "میرا نام عدالتی ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔"

"جناب ٹرمپ، مجھ پر بہتان بازی بند کریں۔ اس طرح آپ ایک لاطینی امریکی صدر کو دھمکی نہیں دے سکتے جو پہلے مسلح جدوجہد اور پھر کولمبیا کے لوگوں کے لیے امن کی جنگ سے ابھر کر سامنے آیا ہے،" پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا۔

پیٹرو نے خطے میں ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائی پر سخت الفاظ میں تنقید کی اور واشنگٹن پر مادورو کو "قانونی بنیادوں کے بغیر" اغوا کرنے کا الزام لگایا۔

اتوار کے روز ایکس پر بعد میں ایک اور پوسٹ میں پیٹرو نے مزید کہا، "دوست بمباری نہیں کرتے۔"

کولمبیا کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر کی دھمکیوں کو "ناقابلِ قبول مداخلت" قرار دیا اور "احترام" کا تقاضہ کیا۔

کولمبیا اور امریکہ خطے میں اہم فوجی اور اقتصادی اتحادی ہیں لیکن ان کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت شروع ہونے کے بعد سے دونوں رہنما باقاعدگی سے ٹیرف اور مائیگریشن پالیسی جیسے مسائل پر الجھتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں