افغانستان میں طالبان کے ایک ذمہ دار نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ایک ٹھیکیدار کمپنی اور مقامی شہریوں کے درمیان سونے کی ایک کان کے معاملے پر باہم جھگڑا شروع ہوگیا۔
یہ واقعہ افغانستان کے صوبہ طہار میں پیش آیا ہے۔ افغانستان کی وزارت تیل و معدنیات کے ترجمان ہمایوں افغان کا کہنا ہے کہ تصادم کے نتیجے میں جانی و مالی دونوں طرح کا نقصان ہوا ہے۔
واقعے کے فوری بعد وزارت تیل و معدنیات کی ایک ٹیم موقع پر روانہ کر دی گئی ہے۔ تاکہ واقعے کی تحقیقات کی جا سکیں۔
وزارت کے حکام نے اس بارے میں تفصیل نہیں دی ہے کہ واقعے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں یا نہیں۔
صوبہ طہار کا یہ ضلع جس کے دیہی علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے تاجکستان کی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔
افغان وزارت تیل و معدنیات کے حکام نے یہ بھی نہیں بتایا ہے کہ تشدد کب شروع ہوگیا۔ البتہ ایک مقامی رہائشی نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ سونے کی کان میں کام کرنے والوں نے ایک مقامی رہائشی کو ہراساں کیا اور اس پر تشدد کے نتیجے میں کچھ دن پہلے یہ تنازعہ پیدا ہوا۔
سونے کی کان میں کام کرنے والوں نے مقامی لوگوں کے لیے پینے کے پانی کو نقصان پہنچایا۔ جس کے بعد مقامی لوگوں نے پیر کے روز ان پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔
اس مقامی شہری نے اپنی شناخت کو سیکیورٹی کے مسائل کے پیش نظر ظاہر نہیں کیا ہے۔
مقامی شہری نے 'اے ایف پی' کو یہ بھی بتایا ہے سونے کی کان میں کام کرنے والے کارکنوں کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں کئی افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور اس کے بعد کان میں کام کرنے والے علاقے سے فرار ہوگئے۔
دوسری جانب صوبہ طہار اور شہر کے حکام نے اس بارے میں 'اے ایف پی' کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی واقعے پر تبصرہ کیا ہے۔
افغانستان میں سونے کی کانوں کے علاوہ دیگر معدنیات، قیمتی پتھروں ، سنگ مرمر اور کوئلے کی بھی کانیں پائی جاتی ہیں۔ معدنیات میں تانبا ، لیتھیئم اور کئی دیگر معدنیات بھی افغانستان میں زیر زمین پائی جاتی ہیں۔ جن کی مالیت کا اندازہ 1 ٹریلین ڈالر تک لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ امریکہ اور اقوام متحدہ کے ارکان نے 2010 سے 2013 کے درمیان لگایا تھا۔
طالبان کی حکومت نے ملک میں امن و امان کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ہماری زیر زمین موجود دولت اور قیمتی معدنیات کے در پے ہیں۔