امریکی وزیر خارجہ گرین لینڈ کے سلسلے میں بات چیت کے لیے اگلے ہفتے ڈنمارک جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے ڈنمارک جائیں گے اور گرین لینڈ کے ایشو پر پیدا ہونے والے تنازعے پر قابو پانے کے لیے تبادلہ خیال کریں گے۔

گرین لینڈ کے تنازعے کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بار بار دہرائے جانے والے بیانات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جس کا ایک اظہار انہوں نے پچھلے دنوں بھی کیا ہے۔ وہ چاہتے کہ گرین لینڈ نامی جزیرے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیں۔

روبیو نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جیسا کہ صدر ٹرمپ نے خطرے کی نشاندہی کی تھی کہ اگر امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہوا تو ہر امریکی صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ اس خطرے کو دور کرنے کے لیے فوجی ذرائع استعمال کرے۔

انہوں نے کہا ایک سفارتکار کے طور پر جو کچھ میں اب ہوں اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں، ہم وینزویلا سمیت ہر معاملے کو مختلف طریقوں سے طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار رپورٹرز کے سوال پر کیا کہ کیا امریکہ اپنے نیٹو اتحادی کے خلاف فوج کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خیال رہے صدر ٹرمپ اس سے پہلے سرگرمی سے اس امر پر اظہار کر چکے ہیں کہ امریکہ گرین لینڈ کا جزیرہ خریدنے کو تیار ہے اور اس کی ڈنمارک کو پوری قیمت دینے کو تیار ہے۔

وائٹ ہاؤس نے یہ بات بدھ کے روز دوبارہ دہرائی ہے مگر ساتھ ہی کہا ضرورت پڑی تو فوج کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کارولین لیویٹ نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا جو کچھ اس وقت صدر اور ان کی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کے زیر بحث ہے وہ یہی ہے کہ امکانی طور پر امریکہ گرین لینڈ کو خریدنے کی پیشکش کرے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کا امکان رد نہ کرنے کی بات کیوں کرتے ہیں حالانکہ ڈنمارک نیٹو میں امریکہ کا اتحادی ہے۔ لیویٹ نے جواب دیا کہ یہ بات اس صدر سے متعلق نہیں ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ تمام آپشنز کھلی ہیں اور صدر کی میز پر پڑی ہیں۔ اس لیے ان کا ذکر کر دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں