روس اور یوکرین

روسی حملوں کے بعدایک ملین سے زائد یوکرینی خاندان بجلی اور پانی سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یوکرین کے ایک وزیر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وسطی یوکرین کے علاقے دنیپروپیٹروفسک میں ''دس لاکھ سے زیادہ خاندان'' رات کے وقت روسی حملوں کے بعد پانی اور بجلی سے محروم ہو گئے ہیں، کیونکہ ان حملوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے نائب وزیرِ اعظم اولیکسی کولیبا نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دنیپروپیٹروفسک کے علاقے میں مرمت کا کام جاری ہے تاکہ دس لاکھ سے زیادہ صارفین کو دوبارہ حرارت اور پانی فراہم کیا جا سکے۔

بدھ کی رات روس کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دنیپروپیٹروفسک اور زاپوریزیا کے علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور ہزاروں افراد بجلی اور حرارت کے بغیر رہ گئے۔

یہ بات بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سرکاری بجلی کمپنی نے بتائی، جبکہ درجۂ حرارت صفر سے نیچے گر گیا تھا۔
فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف ہمہ گیر جنگ شروع کرنے کے بعد سے روس تقریباً روزانہ ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے حملے کر رہا ہے۔گزشتہ برسوں کی طرح اس موسمِ سرما میں بھی روس نے یوکرین کی توانائی تنصیبات پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جس کے باعث حرارت اور پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

کیف اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ شہری آبادی کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ حکمتِ عملی ہے۔ریاستی کمپنی Ukrenergo نے بدھ کی رات آدھی رات سے قبل کہا:دشمن نے کئی علاقوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔کمپنی نے مزید کہا:اس کے نتیجے میں دنیپروپیٹروفسک اور زاپوریزیا کے علاقوں میں زیادہ تر صارفین بجلی سے محروم ہو گئے۔

دنیپروپیٹروفسک کے گورنر ولادیسلاو گائیوانینکو کے مطابق حملے کے باعث توانائی کا اہم بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔انہوں نے ٹیلیگرام پر کہا:صورتحال مشکل ہے، لیکن جیسے ہی سیکیورٹی کی صورتحال اجازت دے گی، مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔

زاپوریزیا میں گورنر ایوان فیڈوروف کے مطابق اہم تنصیبات کو دوبارہ بجلی فراہم کر دی گئی ہے، تاہم زیادہ تر صارفین اب بھی بجلی کے بغیر ہیں۔انہوں نے کہا:ہم چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں تاکہ جلد از جلد تمام صارفین کو بجلی فراہم کی جا سکےاور مزید بتایا کہ پانی کی فراہمی زیادہ تر بحال ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں