ٹرمپ کا روس پر پابندیوں کے لیے مثبت اشارہ

اس بل کے تحت وہ ممالک جو روسی تیل، گیس اور یورینیم خریدیں گے، ان پر بھی کسٹم چارجز اور اضافی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے سخت پابندیوں کے پیکیج کی حمایت کر دی ہے ، جبکہ ان کی انتظامیہ یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے پر پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ری پبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم جو ساؤتھ کیرولائنا سے تعلق رکھتے ہیں، اس نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کی، جہاں صدر نے روس پر پابندیوں کے بل کے لیے ''مثبت اشارہ'' دیا، اس بل پر مہینوں سے کام جاری تھا۔

گراہم نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ ٹرمپ نے بل کی منظوری دے دی ہے، تاہم بعد میں کچھ اضافی رکاوٹیں پیش آئیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بدھ کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو تصدیق کی کہ صدر واقعی پابندیوں کے قانون کی حمایت کر رہے ہیں۔

کسٹم ڈیوٹی اور ضمنی پابندیاں

یہ قانون سازی کا منصوبہ جسے بنیادی طور پر سینیٹر لنڈسی گراہم اور کونیٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومنثال نے تیار کیا ہے، امریکی انتظامیہ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ان ممالک پر کسٹم ڈیوٹی اور ضمنی پابندیاں عائد کرے ،جو روسی تیل، گیس، یورینیم اور دیگر برآمدات خریدتے ہیں۔ یہ اقدام روس کی فوجی کارروائیوں کے لیے مالی وسائل کے بڑے حصے کو کاٹنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ پابندیوں کے پیکیج میں کچھ ترامیم کی جائیں اور ٹرمپ کو اس میں کچھ لچک دی جائے، تاہم بدھ کو

اہلکار نے واضح نہیں کیا کہ آیا اس حوالے سے کوئی تبدیلی کی گئی ہے یا نہیں۔
یہ بل سینیٹ میں شامل درجنوں اسپانسرز کی حمایت حاصل کر چکا ہے، جبکہ ایوان نمائندگان میں ایک مشابہ بل بھی موجود ہے ،جسے ری پبلکن رکن برائن فٹزپیٹرک نے تیار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں