میکسیکو کے شہنشاہ کو ''مونرو اصول'' کے تحت پھانسی دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

1861 کے اوائل میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں خانہ جنگی پھوٹ پڑی، جسے ملک کی تاریخ کے سب سے خونریز تنازعے کے طور پر جانا جاتا ہے، جس میں کم از کم 6 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

اس دوران غلامی کا مسئلہ اور ابراہم لنکن کا اقتدار سنبھالنا وہ اہم وجوہات تھیں ،جن کی بنا پر جنوبی ریاستیں جو غلامی کی حمایت کرتی تھیں، انھوں نے یونین سے الگ ہونے کا اعلان کیا۔

خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپی طاقتوں نے میکسیکو میں امریکی سرحد کے قریب فوجی مداخلت کی۔ اس دوران امریکی مونرو اصول کو نافذ کرنے میں ناکام رہے اور وقتی طور پر اپنی جنوبی سرحد پر ہونے والے حالات کو قبول کرنے پر مجبور ہوئے، قبل اس کے کہ وہ خانہ جنگی کے اختتام اور یونین کی فتح کے ساتھ حرکت میں آئیں۔

میکسیکو میں مداخلت

انیسویں صدی کے وسط میں میکسیکو سیاسی انتشار اور خانہ جنگیوں کا شکار تھا۔ ان مسائل میں اضافہ اس وقت ہوا جب امریکی-میکسیکو جنگ کے نتیجے میں میکسیکو نے اپنے وسیع علاقوں کا نقصان امریکیوں کے فائدے کے لیے برداشت کیا۔
اسی دوران لبرلز نے بینیتو خواریز (Benito Juárez) کی قیادت میں نئی اصلاحات نافذ کیں، جنہوں نے ملک میں چرچ اور فوج کے اختیارات کو محدود کیا۔ 1861 تک خواریز نے میکسیکو کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی روک دی، جس سے یورپی طاقتوں میں تشویش اور غصہ پیدا ہوا۔

فرانسیسی برطانوی اور ہسپانوی حکومتیں مالی مفادات کے تحفظ اور میکسیکو کو قرضے واپس کرنے پر مجبور کرنے کے لیے فوجی مداخلت پر اتر آئیں۔تاہم برطانیہ اور اسپین نے جلد ہی اس فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹنے کو ترجیح دی۔

اس کے برعکس فرانسیسی شہنشاہ نپولین سوم نے امریکی خانہ جنگی کی مصروفیت اور مونرو اصول کے نفاذ میں امریکی ناکامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی مداخلت جاری رکھی، تاکہ میکسیکو میں فرانسیسی حمایت یافتہ کیتھولک نظام قائم کیا جا سکے۔

ایک نیا شہنشاہ

اسی دوران میکسیکو کے قدامت پسندوں نے فرانسیسی مداخلت کے خیال کی حمایت کی۔ اسی مناسبت سے نپولین سوم نے دسمبر 1861 میں میکسیکو کے لیے لاکھوں فوجی بھیجے۔ پھر اس نے ویانا میں 1832 میں پیدا ہونے والے میکسیمیلیان ہابسبورغ کو میکسیکو کا شہنشاہ بننے کی پیشکش کی۔پیشکش کی قبولیت کے بعد ہابسبورغ کو میکسیمیلیان اوّل (Maximilian I) کا لقب ملا۔ اگرچہ وہ اپریل 1864 میں باضابطہ طور پر میکسیکو کے تخت پر بیٹھا، مگر اس کا اقتدار بنیادی طور پر فرانسیسی موجودگی پر منحصر تھا اور وہ عوامی حمایت سے محروم رہا کیونکہ میکسیکن زیادہ تر لوگ اس کی حکمرانی کے خلاف تھے۔

فرانس کی واپسی اور شہنشاہ کی پھانسی

امریکی خانہ جنگی کے اختتام پر فرانسیسیوں کو خدشہ ہوا کہ واشنگٹن دوبارہ مونرو اصول کو علاقے میں نافذ کر سکتا ہے تاکہ یورپی طاقتوں کو امریکی براعظم سے نکلنے پر مجبور کیا جا سکے۔اسی دوران فرانسیسی عوام میں میکسیکو میں اپنی مہم کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت پیدا ہو گئی، خاص طور پر اس کے بڑھتے ہوئے جانی نقصان اور مہنگائی کی وجہ سے نپولین سوم کو پروسیوں کی جانب سے بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا تھا، جو اب ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت بن چکے تھے۔

واشنگٹن نے فرانس پر سفارتی دباؤ ڈال کر اپنی افواج کو میکسیکو سے واپس بلانے کی کوشش کی اور خانہ جنگی کے بعد ٹیکساس میں بڑی تعداد میں فوج جمع کر کے مداخلت کی دھمکی دی۔

دوسری طرف کئی سابق شمالی امریکی فوجی میکسیکو آئے اور بینیتو خواریز کی افواج کے ساتھ لڑائی میں شامل ہوئے۔ واشنگٹن نے خواریز کی فوج کو ہتھیار اور مالی معاونت بھی فراہم کی۔ان حالات میں نپولین سوم نے 1866 سے اپنی فوجوں کو میکسیکو سے بتدریج واپس بلانا شروع کیا۔ فرانسیسی حمایت کے ختم ہونے کے بعد میکسیمیلیان اوّل کی سلطنت ٹوٹ گئی اور وہ گرفتار ہو کر 19 جون 1867 کو جمہوریوں کے ہاتھوں پھانسی دے دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں