ٹرمپ: امریکی دھمکیوں کے بعد ایران 'مذاکرات' چاہتا ہے

ایران میں حالات بدستور کشیدہ، لندن اور دیگر مقامات پر ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایران کی قیادت نے "مذاکرات" کرنے کی خواہش ظاہر کی جب انھوں نے بار بار دھمکی دی کہ اگر تہران نے مظاہرین کو ہلاک کیا تو وہ فوجی مداخلت کریں گے۔

ملک میں وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں پر مہلک کریک ڈاؤن کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے درمیان ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔

جب ایئر فورس ون میں سوار نامہ نگاروں نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا ایران نے ان کی پہلے بیان کردہ سرخ لکیر عبور کر لی ہے تو انہوں نے کہا، "ایسا لگتا ہے وہ لکیر عبور کرنا شروع کر رہے ہیں۔"

نیز کہا، "ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ فوج اس کا جائزہ لے رہی ہے اور ہم بعض پُرزور ممکنات پر غور کر رہے ہیں۔ ہم فیصلہ کریں گے۔"

دو ہفتوں سے ایران کو ایک احتجاجی تحریک نے ہلا کر رکھ دیا ہے جو کریک ڈاؤن کے کے باوجود شدت اختیار کر گئی ہے اور انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک "قتلِ عام" بن گئی ہے۔

جو مظاہرے ابتداً زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر غم و غصے سے شروع ہوئے تھے، وہ 1979 کے انقلاب کے بعد سے اب تک موجود مُلّائی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

کئی دنوں سے انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود ایران سے معلومات ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ تین راتوں میں دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں وسیع مظاہرے دکھائے گئے ہیں۔

جیسا کہ مظاہروں میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور تصاویر میں مردہ خانے کے باہر لاشوں کے ڈھیر دکھائے گئے ہیں تو ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے مذاکرات کرنے پر آمادگی کا اشارہ دیا۔

"ایران کے رہنماؤں نے کل فون کیا، ایک میٹنگ ترتیب دی جا رہی ہے۔۔ وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں،" ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر سوار صحافیوں کو بتایا۔

تاہم انہوں نے مزید کہا، "ہو سکتا ہے ہمیں میٹنگ سے پہلے کوئی عمل کرنا پڑے۔"

امریکہ میں قائم سینٹر فار ہیومن رائٹس ان ایران (سی ایچ آر آئی) نے کہا کہ اسے "عینی شاہدین کی بیان کردہ کہانیاں اور مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انٹرنیٹ کی موجودہ بندش کے دوران ایران کے طول و عرض میں سینکڑوں مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔"

سینٹر نے کہا، "ایک قتلِ عام ہو رہا ہے۔"

ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے کہا کہ اس نے کم از کم 192 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

آئی ایچ آر نے کہا، "غیر تصدیق شدہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم کئی سو اور بعض ذرائع کے مطابق 2,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہوں گے۔"

آئی ایچ آر کے اندازے کے مطابق 2,600 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اتوار کو گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ تہران کے جنوب میں ایک مردہ خانے کے باہر درجنوں لاشیں جمع تھیں۔

اے ایف پی نے کہریزک کو فوٹیج کے مقام کے طور پر شناخت کیا جہاں سیاہ تھیلوں میں لپٹی لاشیں نظر آ رہی ہیں اور غمزدہ افراد اپنے عزیزوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

تقریباً مفلوج

تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے شہر کے بارے میں بتایا کہ وہاں کا نظام مفلوج حالت کو پہنچ چکا ہے۔

احتجاج شروع ہونے کے بعد سے گوشت کی قیمت تقریباً دوگنا ہو گئی ہے اور کئی دکانیں بند ہیں۔ جو کھلتی ہیں، وہ بھی شام چار یا پانچ بجے کے قریب بند ہو جاتی ہیں جب سکیورٹی فورسز بڑے پیمانے پر تعینات ہوں۔

اتوار کو سوشل میڈیا پر احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کم تھیں لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس میں انٹرنیٹ کی بندش کا کتنا کردار ہے۔

وسیع پیمانے پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین ایک بار پھر تہران کے ضلع پوناک میں جمع ہو کر معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔

جون میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف اسرائیل کی 12 روزہ جنگ جسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی، کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ مظاہرے 86 سالہ رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی حکمرانی کے لیے ایک سب سے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی نے نذرِ آتش عمارات بشمول ایک مسجد کی تصاویر نشر کی ہیں اور ساتھ ہی سکیورٹی اہلکاروں کے جنازے کے جلوس بھی۔

لیکن وسیع پیمانے پر ہونے والی سہ روزہ کارروائیوں کے بعد ریاستی میڈیا ادارے اصل حقائق کی تصویر پیش کرنے سے قاصر تھے اور اتوار کے روز ہموار ٹریفک کی تصاویر نشر کی گئیں۔ تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے تبصروں میں اصرار کیا کہ "مظاہروں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔"

ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی فورسز کے "شہداء" کے لیے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

صدر مسعود پیزشکیان نے بھی ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ تشدد کی مذمت کے لیے پیر کے روز "قومی مزاحمتی مارچ" میں شامل ہوں۔

ٹرمپ کی طرف سے مداخلت کی بار بار دھمکیوں کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف نے سرکاری ٹی وی پر نشر کردہ تبصروں میں امریکی فوج اور جہاز رانی کو "جائز اہداف" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوابی حملہ کرے گا۔

'عوام کے شانہ بشانہ'

ایران کے معزول شاہ کے امریکہ میں مقیم بیٹے رضا پہلوی جو حکومت مخالف شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں، نے کہا ہے کہ وہ وطن واپسی اور جمہوری تبدیلی کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے اتوار کو فاکس نیوز کو بتایا، "میں پہلے ہی اس کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔"

بعد ازاں انہوں نے ایران کی سکیورٹی فورسز اور سرکاری کارکنان پر زور دیا کہ وہ مظاہرین میں شامل ہوں۔

انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا، "ریاستی اداروں کے ملازمین کے ساتھ ساتھ مسلح اور سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب کا ایک موقع ہے: عوام کے شانہ بشانہ ہو جائیں اور قوم کے اتحادی بنیں یا عوام کے قاتلوں کے ساتھ تعاون کا انتخاب کریں۔"

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ایرانی سفارت خانوں کے باہر پرچم بدل دیں۔

انہوں نے کہا، "اب وقت آگیا ہے کہ انہیں ایران کے قومی پرچم سے مزین کیا جائے۔"

قبل از انقلاب والا رسمی پرچم ان عالمی ریلیوں کا ایک نشان بن گیا ہے جو ایران کے مظاہرین کی حمایت میں نکلی ہیں۔

لندن میں مظاہرین ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے کا پرچم اتارنے میں کامیاب ہو گئے اور اس کی جگہ آخری شاہ کے زیرِ حکومت استعمال ہونے والا سہ رنگی بینر لہرا دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں