ترکیہ میں خاتون جج پر فائرنگ، حملہ آور پراسیکیوٹر نکلا
واقعے نے ملک میں خواتین کے قتل کے وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے واقعات کی یاد دلا دی
استنبول کے علاقے کارتار میں واقع اناطولیہ کورٹ ہاؤس میں ایک ترک خاتون جج کو ان کے دفتر میں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس پر ترک حلقوں میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس واقعے نے ملک میں خواتین کے قتل کے ان کیسز کی یاد تازہ کر دی ہے جو وقتاً فوقتاً دہرائے جاتے ہیں۔ ترک مقامی میڈیا کے مطابق جج ’’ اصلی قہرمان ‘‘ کی ران میں گولی لگی۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا اور طبی امداد کے بعد اب ان کی حالت مستحکم ہے۔
سی این این ترک کی ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی سابقہ اہلیہ پر فائرنگ کی جو کورٹ آف اپیل کے 23 ویں کرمنل چیمبر میں جج کے طور پر کام کرتی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔ سی این این ترک نے مزید بتایا کہ یہ واقعہ فریقین کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے جاری تنازعات کا نتیجہ ہے۔
سوزوجو اخبار کے مطابق یہ حملہ جج قہرمان کے دفتر میں ہوا۔ کمرے میں داخل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد پراسیکیوٹر ’’ کیلیچارسلاں ‘‘ نے جج قہرمان کے ساتھ بحث شروع کر دی۔ بحث شدت اختیار کر گئی تو کیلیچارسلاں نے اپنا اسلحہ نکالا اور قہرمان پر ایک گولی چلادی جس سے وہ ایک حساس حصے میں زخمی ہو گئیں۔ جب پراسیکیوٹر کیلیچارسلاں دوسری گولی چلانے ہی والا تھا کہ یعقوب کاراداغ اور کمرے میں موجود چائے پیش کرنے والے ملازم نے اسے روک دیا۔
اس واقعے نے ترک عوام خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو خواتین کے قتل کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔ خواتین کی تنظیموں بشمول ’’ سٹاپ فیمیسائڈ ‘‘ پلیٹ فارم نے استنبول کنونشن میں واپسی کے مطالبے کو دہرایا ہے جو خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔