ٹرمپ اور وینزویلا کی قائم مقام صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ،باہمی تعریف و تحسین کا تبادلہ
روڈریگز نے فون کال کو "مفید آور اور شائستہ" قرار دیا ، ٹرمپ نے قائم مقام خاتون صدر کو "ایک شان دار شخصیت" کہا
وینزویلا کی قائم مقام خاتون صدر ڈیلسی روڈریگز نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ٹیلی فونک گفتگو "مفید اور شائستہ" رہی۔ ڈیلسی کے مطابق صدر نکولس مادورو کی برطرفی اور گرفتاری کے بعد یہ دونوں سربراہان کے درمیان پہلا رابطہ تھا۔
روڈریگز نے ٹیلیگرام پر ایک پیغام میں لکھا کہ انہوں نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کے ساتھ باہمی احترام کے ماحول میں ایک طویل، مفید اور شائستہ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ یہ بات خبر رساں ادارے فرانس پریس نے بتائی۔
ڈیلسی نے اس ماہ کے آغاز میں عارضی طور پر صدارت سنبھالی، جب 3 جنوری کو امریکی فوج نے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے منشیات سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ منتقل کر دیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ انہوں نے وینزویلا کی قائم مقام صدرہ ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ “ایک طویل فون کال” کی ہے۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "آج ہماری ایک بہترین فون کال ہوئی، وہ ایک شان دار شخصیت ہیں۔ ہم نے بہت سے معاملات پر بات کی اور میرا خیال ہے کہ ہم وینزویلا کے ساتھ اچھی ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں۔"
اس سے قبل بدھ کے ہی روز ڈیلسی روڈریگز نے کہا تھا کہ وینزویلا ایک “نئے سیاسی دور” کی طرف دیکھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ اس وقت بروکلین کی ایک وفاقی جیل میں قید ہیں۔ وہ گذشتہ ہفتے ایک امریکی عدالت میں پیش ہوئے تھے، جہاں انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ سمیت عائد تمام الزامات سے انکار کیا۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر ہے۔