بھارت نے کئی بلین ڈالر کے معاہدے میں 114 فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارے خریدنے اور مشترکہ طور پر تیار کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے جس کا مقصد فضائی دفاع میں اہم خلا دور کرنا ہے۔
نام ظاہر کرنے کی شرط پر سینئر حکام نے بتایا کہ جنوبی ایشیائی ملک کے ڈیفنس پروکیورمنٹ بورڈ نے جمعہ کو ڈسالٹ ایوی ایشن جیٹ طیاروں کی خریداری کی تجویز منظور کر لی۔ وزارت کے اعلیٰ بیوروکریٹ اس بورڈ کے سربراہ ہیں اور بڑی خریداریوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔
بھارتی وزارتِ دفاع اور فضائیہ نے کاروباری اوقات کے بعد تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
یہ خریداری بھارتی فضائیہ کے لیے ایک اہم اضافہ ہو گی جس کے لڑاکا طیاروں کا زیادہ تر روسی نژاد بیڑا کم ہو رہا ہے۔ بھارتی ساختہ طیاروں کے ساتھ معیار کی یقین دہانی کے مسائل پر برسوں مذاکرات کرنے کے بعد بھارت نے 2015 میں فرانس سے 126 رافیل لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔
بھارتی خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اگلے ماہ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اگرچہ روس بدستور بھارت کو ہتھیاروں کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے لیکن نئی دہلی نے گذشتہ چند سالوں کے دوران ماسکو سے اپنے فوجی ہارڈ ویئر کی خریداری کم کر دی ہے۔
ڈسالٹ کے ایک میڈیا نمائندے نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
عالمی ہتھیاروں کی فروخت کی نگرانی کرنے والے ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق نئی دہلی فرانسیسی ساختہ فوجی سامان کا واحد سب سے بڑا خریدار ہے۔
حتمی معاہدے پر دستخط اور ترسیل شروع ہونے سے پہلے مزید اقدامات بشمول قیمت کے مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی طرف سے حتمی منظوری باقی ہیں۔
بلومبرگ نیوز نے اطلاع دی کہ بھارت کے پاس پہلے سے ہی 36 رافیل طیارے ہیں اور اپریل میں اس نے لڑاکا طیاروں کے 26 بحری متبادل طیارے خریدنے کے لیے اپریل میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
لوگوں نے بتایا کہ 114 جیٹ طیاروں میں سے چند کے علاوہ باقی تمام فرانسیسی دفاعی مینوفیکچرنگ کمپنی کے ساتھ مل کر بھارت میں بنائے جائیں گے جو بھارتی شراکت داروں کو ٹیکنالوجی منتقل کرے گی۔
اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی مکمل ہونے کے بعد جیٹ طیاروں میں 50 سے 60 فیصد بھارتی ساختہ پرزہ جات ہوں گے جن میں ایئر فریم، ایویانکس اور انجن شامل ہیں۔