روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ اب برطانیہ، برطانیہ عظمیٰ نہیں رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں واحد ملک ہے جو اپنا نام عظیم برطانیہ یا برطانیہ عظمیٰ لکھتا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا 'میں یہ سمجھتا ہوں کہ برطانیہ کو اب صرف برطانیہ ہی کہا جانا چاہیے کیونکہ برطانیہ عظمیٰ اس ملک کی طرف سے خود کو کہلوانے کی کوشش ہے۔'
انہوں نے منگل کے روز ان خیالات کا اظہار اس وقت کیا جب وہ گرین لینڈ کے بارے میں رپورٹرز سے گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا اپنے آپ کو عظیم کہنے والے ملک کی مثال معمر قذافی کے زیر قیادت عظیم سوشلسٹ پیپلز لیبیا کی ہے۔ لیکن وہ اب موجود نہیں ہے۔
یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ماسکو تعلقات کی بحالی کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان امن کوششیں کر رہا ہے۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ روس یورپ کے لیے خطرہ ہے۔ روس یوکرین جنگ کے دوران روس اور مغربی ملک ایک دوسرے پر جاسوسی کا الزام بھی لگاتے رہے ہیں۔
-
برطانیہ، فرانس میں نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی زیرِ غور، بحث میں شدت
مکمل پابندی کی بجائے متوازن ضوابط کا تقاضہ
بين الاقوامى -
برطانیہ کا عجیب پناہ گزین، امریکی شہریت کے باوجود امداد پر زندگی گزار رہا
یہ شخص لاس ویگاس سے برطانیہ فرار ہوا ، دعویٰ کیا اس کے رنگ کی وجہ سے اسے نشانہ ...
بين الاقوامى -
وقت آ گیا ہے کہ گرین لینڈ سے "روسی خطرے" کو دور کیا جائے اور یہ ہو کر رہے گا : ٹرمپ
یورپی ممالک کا گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ کی دھمکیوں کے سامنے متحد موقف
بين الاقوامى