سائنسدانوں نے دمے کے حملوں کی پیش گوئی پانچ سال قبل کرنے کا نیا طریقہ دریافت کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

محققین نے ایک نیا سائنسی طریقہ کار دریافت کیا ہے، جو دمے کے مریضوں کی دیکھ بھال میں انقلاب لا سکتا ہے، کیونکہ یہ ڈاکٹروں کو پانچ سال قبل ہی دمے کے شدید حملوں کی پیش گوئی کرنے کے قابل بناتا ہے۔

یہ تحقیق حال ہی میں سویڈن کے کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ اور ماساچوسٹس جنرل ہسپتال بریگھم کے محقیقین نے کی، اور اسے Nature Communications جرنل میں شائع کیا گیا۔

دمہ دنیا کے سب سے زیادہ پھیلنے والے دائمی امراض میں سے ایک ہے، جو 500 ملین سے زائد افراد کو متاثر کرتا ہے، اس کے شدید حملے زندگی کے معیار میں کمی اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کے اہم اسباب میں سے ہیں۔
بیماری کی کثرت کے باوجود مستقبل میں شدید حملوں کا زیادہ خطرہ رکھنے والے مریضوں کی شناخت کرنا ڈاکٹروں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

اس مطالعے میں دمے کے مریضوں کے تین بڑے گروہوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں 2500 سے زائد افراد شامل تھے، یہ ڈیٹا عقود پر محیط الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کے ذریعے جمع کیا گیا تھا۔

محققین نے ایک جدید تکنیک "میٹابولومکس" استعمال کی، جس کا مقصد خون میں موجود چھوٹے ذرات کی پیمائش کرنا اور بیماری سے متعلق میٹابولک تبدیلیوں کا تجزیہ کرنا ہے۔
ٹیم نے خون میں موجود دو حیاتیاتی مرکبات کے درمیان ایک مضبوط تعلق معلوم کیا، جو سفنگولائیپیڈز (Sphingolipids) اور اسٹیرائیڈز (Steroids) ہیں۔

محققین نے پایا کہ ان دونوں مرکبات کے تناسب سے دمے پر قابو پانے کی حالت اور مستقبل میں شدید حملوں کے خطرے کا بہت درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مطالعے کے نتائج کے مطابق تنبؤی ماڈل نے اعلی خطرہ والے اور کم خطرہ والے مریضوں میں تقریباً 90 فیصد درستگی کے ساتھ فرق کرنے میں کامیابی حاصل کی، بعض صورتوں میں یہ ماڈل پہلی شدید دمے کی نوبت کے وقت کا اندازہ بھی تقریباً ایک سال پہلے لگا سکتا تھا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے کالج آف میڈیسن کی شریک پروفیسر جیسیکا لاسکی-سو نے کہا:دمے کے علاج میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ فی الحال ہم یہ نہیں جان پاتے کہ کون سے مریض مستقبل قریب میں شدید نوبت کا شکار ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئے نتائج طبی دیکھ بھال میں ایک اہم خلا کو پر کرتے ہیں اور مریض کی حالت بگڑنے سے پہلے ابتدائی مداخلت ممکن بناتے ہیں۔اس کے علاوہ کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے سینئر محقق کریگ ویلک نے وضاحت کی کہ مرکبات کے تناسب پر توجہ دینا، صرف ان کی انفرادی سطحوں کو دیکھنے کے بجائے، اس طریقہ کار کو حیاتیاتی طور پر زیادہ درست اور کلینیکل استعمال کے لیے آسان بناتا ہے، جس سے اسے عملی اور کم لاگت والے خون کے ٹیسٹ میں تبدیل کرنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔

آئندہ اقدامات برائے کلینیکل استعمال

محققین نے کہا ہےاگرچہ نتائج امید افزا ہیں،مگر انھوں نے زور دیا ہے کہ یہ طریقہ ابھی بھی مزید تصدیق کا محتاج ہے ۔قبل اس کے کہ اسے روزمرہ طبی عمل میں اپنایا جائے۔ آئندہ اقدامات میں شامل ہیں:اضافی مطالعات اور کلینیکل تجربات کرنا تاکہ اس کی موثریت اور لاگت کے اعتبار سے افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔طویل مدت میں علاج کے نتائج پر اس کے اثرات کا تجزیہ کیا جا سکے۔

سائنسدان امید کرتے ہیں کہ یہ نتائج دمے کے علاج میں میکانیکی یا ذاتی نوعیت کی طبی دیکھ بھال (Precision Medicine) کے تصور کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے، یعنی:خطرے والے مریضوں کی ابتدائی شناخت ،ان کے لیے روک تھام اور حفاظتی علاج کا وقت سے پہلے تعین،اس سے ممکنہ پیچیدگیوں میں کمی اور دنیا بھر میں لاکھوں مریضوں کی زندگی کے معیار میں بہتری شامل ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں