ایسا نظر آ رہا ہے کہ اسرائیل، بالخصوص اس کے سکیورٹی ادارے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع ہونا شروع ہو گئی ہے۔
ایسے وقت میں جب ٹرمپ غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش قدمی، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلاء، رفح کراسنگ کھولنے اور "امن کونسل" کے کام کے آغاز پر زور دے رہے ہیں ... اسرائیلی فوج زیادہ محتاط نظر آتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج فی الوقت انخلاء کی مخالف ہے اور اس کا موقف دائیں بازو کے انتہا پسند وزراء کی آوازوں سے میل کھاتا ہے۔
اسرائیل کی سیاسی و سکیورٹی امور کی کابینہ نے اپنے حالیہ اجلاس میں امریکہ کے مطالبے کے باوجود فی الوقت رفح کراسنگ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت" کے مطابق ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے بتایا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کرنے والی کونسل میں قطر اور ترکی کے نمائندوں کو شامل کرنا اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اصل مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس نئی کونسل کے اختیارات اور کردار کیا ہوں گے۔
مذکورہ عہدے دار نے یہ بھی کہا کہ ترکی اور قطر کی شمولیت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مرضی کے خلاف کی گئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے نیتن یاہو سے ایک طرح کا "انتقام" ہے، کیونکہ نیتن یاہو نے ہلاک ہونے والے سپاہی 'ران غفیلی' کی لاش کی واپسی سے قبل رفح کراسنگ کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔
دوسری جانب انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بیسلئیل سموٹریچ نے گذشتہ روز غزہ کی پٹی سے انخلاء ملتوی کرنے کے فوجی فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا اور کریات گات میں قائم اس امریکی کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو بند کرنے کا مطالبہ کیا جو غزہ کی صورتحال کی نگرانی کرتا ہے۔ "ٹائمز آف اسرائیل" کے مطابق سموٹریچ نے کہا کہ "2005 میں غزہ سے انخلاء کے گناہ کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اس ساحلی فلسطینی پٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مزید 20 سال انتظار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ٹرمپ کے منصوبے کو اسرائیل کے لیے برا قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی سے انخلاء اور رفح کراسنگ کھولنے کے مسائل کے ساتھ ساتھ، اسرائیلی سکیورٹی ادارے غزہ میں ایک بندرگاہ کے قیام کے خیال