کے ایل ایم نے شرقِ اوسط کی پروازیں روک دیں، ایئر فرانس کی دبئی کے لیے سروس معطل

جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کے باعث سروس عارضی طور پر معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

کم از کم دو یورپی ایئرلائنز نے جمعہ کو شرقِ اوسط کے شہروں کے لیے پروازیں معطل کر دیں اور ایئر فرانس نے کہا ہے کہ وہ جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کے باعث عارضی طور پر دبئی کے لیے سروس بند کر رہی ہے۔

نیدرلینڈز کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ڈچ ایئرلائن کے ایل ایم نے شرقِ اوسط کے شہروں کے لیے تا حکمِ ثانی پروازیں روک دی ہیں اور عراق اور ایران سمیت خطے کے کئی ممالک کی فضائی حدود سے پرواز نہیں کرے گی۔

اگرچہ کچھ دن قبل صدر ٹرمپ نے عنقریب فوجی کارروائی کا امکان مسترد کر دیا اور کہا کہ تہران بظاہر مذاکرات کا خواہاں تھا لیکن جمعرات کو انہوں نے کہا، امریکی "ارماڈا" (جنگی بحری جہازوں کا دستہ) خلیج کی طرف بڑھ رہا ہے اور واشنگٹن ایران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

فرانس کے قومی مسافر بردار نے اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا، "شرقِ اوسط کی موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر کمپنی نے دبئی کے لیے اپنی سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

ایئرلائن نے مزید کہا، وہ اپنی پروازوں کے لیے "اعلیٰ ترین سطح کی حفاظت اور سلامتی" کو یقینی بنانے کی غرض سے "ان علاقوں میں جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کے ارتقاء کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے جہاں اس کے طیاروں خدمات انجام دیتے اور پرواز کرتے ہیں۔"

فرانسیسی ایئرلائن نے کہا، "ایئر فرانس ہمہ وقت صورتِ حال کی نگرانی کر رہا ہے اور اپنی پروازوں کے اوقات سے متعلق مزید اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔"

کے ایل ایم نے جمعہ کے روز ڈچ نشریاتی ادارے این او ایس کو بتایا کہ اس نے تل ابیب، دبئی، دمام اور ریاض کے لیے تا حکمِ ثانی پروازیں معطل کر دیں اور وہ عراق، ایران، اسرائیل اور خلیج کے کئی ممالک کی فضائی حدود سے پرواز نہیں کرے گی۔

این او ایس کے مطابق ایئرلائن نے معطلی کی وجہ نہیں بتائی اور کہا ہے کہ وہ ڈچ حکام سے رابطے میں ہے۔

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا امکان گذشتہ ہفتے معدوم ہوتا نظر آیا جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ تہران نے مظاہرین کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا لیکن ٹرمپ نے جمعرات کو فوجی تیاریاں جاری رکھنے کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا "آپ جانتے ہیں کہ ہمارے کئی بحری جہاز اس سمت جا رہے ہیں تاکہ حسبِ ضرورت ان سے کام لیا جائے۔ ہماری ایک بڑی قوت ایران کی طرف عازمِ سفر ہے،"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں