لاریجانی کی بیٹی تنازعے کی زد میں، امریکی یونیورسٹی سے اخراج کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ میں ایرانی سیاست کی گونج اس وقت تعلیمی دنیا تک پہنچ گئی، جب عوامی اور سیاسی دباؤ میں اضافے کے بعد معروف امریکی جامعہ ایموری نے تصدیق کی کہ اس نے فاطمہ اردشیر لاریجانی کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔

فاطمہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی بیٹی ہیں، جن پر امریکہ نے حالیہ دنوں میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ کردار کے باعث پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف علمی حلقوں بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی بحث و تنازع کا باعث بن گیا ہے۔

یونیورسٹی کے وِن شپ کینسر انسٹی ٹیوٹ جہاں فاطمہ کام کر رہی تھیں، نے بتایا کہ ایرانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی بیٹی اب ایموری یونیورسٹی کی ملازم نہیں رہیں۔

یہ بات ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کے حوالے سے سامنے آئی۔تاہم جامعہ نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا فاطمہ کی برطرفی براہِ راست امریکی پابندیوں سے منسلک ہے یا نہیں۔

البتہ جامعہ نے کہا : ہمارے ہاں ملازمین کی تقرری ریاستی قوانین، وفاقی قوانین اور دیگر متعلقہ ضوابط کے مطابق مکمل طور پر کی جاتی ہے۔

شعبۂ امراضِ خون اور آنکولوجی

فاطمہ ایموری یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول میں شعبۂ امراضِ خون اور طبی آنکولوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ جامعہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی تحقیق کا مرکز ''پھیپھڑوں کے کینسر میں نئے علاج اہداف کی دریافت اور مدافعتی مزاحمت کے طریقۂ کار کی نشاندہی'' تھا۔تاہم ہفتے کے روز برطرفی کے فیصلے کے بعد یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے ان کا پروفائل ہٹا دیا گیا۔

اس سے قبل امریکی ریاست جارجیا سے کانگریس کے رکن پیڈی کارٹر نے اس ہفتے کے آغاز میں ان کی برطرفی اور جارجیا میں ان کا طبی لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کارٹر نے جامعہ اور جارجیا کمپوزٹ میڈیکل بورڈ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ علی لاریجانی نے ایک اعلیٰ سیکیورٹی منصب پر رہتے ہوئے حال ہی میں ''امریکیوں اور امریکا کے اتحادیوں کے خلاف تشدد کی کھلی دعوت دی'' ۔ ایسے میں ان کی بیٹی کا امریکا میں مریضوں کا علاج کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

کارٹر نے مزید کہا کہ ''ایرانی سکیورٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے قریبی خاندانی تعلق رکھنے والے فرد کو ایسے منصب پر برقرار رکھنا مریضوں کے اعتماد، اداروں کی سلامتی اور قومی سلامتی کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔''

علی لاریجانی
علی لاریجانی

اسی دوران متعدد امریکی اور ایرانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر ان کی برطرفی کے حق میں مہم چلائی۔ اس کے علاوہ کئی ایرانی شہریوں نے وِن شپ کینسر انسٹی ٹیوٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، جس میں ایران کے اندر احتجاجی مظاہروں کو کچلنے میں علی لاریجانی کے کردار کے باعث ان کی بیٹی کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک ہفتے سے زائد قبل علی لاریجانی پر پابندیاں عائد کی تھیں، ان پر ایران میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کی ہم آہنگی اور سکیورٹی فورسز کو طاقت کے استعمال کی کھلی ترغیب دینے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں