چینی وزارت دفاع کی جانب سے گذشتہ ہفتے حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے دو اعلیٰ فوجی حکام، "چانگ يوشيا" اور "ليو چن لی" کے خلاف سنگین تادیبی اور قانونی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے آغاز کے بعد اب ان الزامات کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق، چانگ جو کہ پولٹ بیورو کے رکن اور مرکزی فوجی کمیشن کے نائب صدر ہیں ... چین کے وہ اعلیٰ ترین جنرل بن گئے ہیں جن پر امریکہ کو چین کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی معلومات فراہم کرنے اور عہدوں کی ترقی کے عوض رشوت لینے کے الزامات ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ان پر "سیاسی گروہ بندی" کا الزام بھی ہے، جو پارٹی کے اندر ایسے اثر و رسوخ والے نیٹ ورکس بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو پارٹی کے اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر مرکزی فوجی کمیشن میں اپنے اختیارات کے غلط استعمال اور فوجی ساز و سامان کی خریداری کے ادارے کی نگرانی کے دوران بدعنوانی کے الزامات بھی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چانگ پر فوجی خریداری کے وسیع بجٹ والے نظام میں عہدوں کی بندر بانٹ کے بدلے خطیر رقم وصول کرنے کا شبہ ہے۔ تاہم سب سے سنگین الزام چین کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بنیادی تکنیکی ڈیٹا امریکہ کو فراہم کرنا ہے۔ ان کے خلاف کچھ ثبوت چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن کے سابق ڈائریکٹر جنرل 'گو جون' کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جن کے خلاف حال ہی میں تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
صدر شی جن پنگ نے اس معاملے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو 2007 سے 2012 کے درمیان شنیانگ فوجی علاقے میں چانگ کی قیادت کے دور کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ ٹیم فوجی اڈوں کے بجائے مقامی ہوٹلوں میں ٹھہری ہے تاکہ چانگ کے حمایتی نیٹ ورک سے بچا جا سکے۔ حکام نے چانگ اور ليو چن لی کے زیر سایہ ترقی پانے والے افسران کے مواصلاتی آلات بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔
چانگ يوشيا کو کبھی صدر شی جن پنگ کا سب سے قابل اعتماد فوجی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ ان پر سابق وزیر دفاع لی شانگفو کی ترقی میں رشوت کے عوض مدد کرنے کا بھی الزام ہے، جنہیں خود 2023 میں بدعنوانی کے الزامات پر برطرف کر دیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ماؤ زی تنگ کے دور کے بعد چینی فوجی قیادت کی یہ سب سے بڑی اکھاڑ پچھاڑ ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی حیران کن ہے کہ چانگ کا شمار "سرخ شہزادوں" (اعلیٰ انقلابی رہنماؤں کی اولاد) میں ہوتا ہے اور ان کے والد نے خانہ جنگی کے دوران شی جن پنگ کے والد کے شانہ بشانہ جنگ لڑی تھی۔