ایرانی نظام کی کمزوری کے متعلق انٹیلی جنس رپورٹیں ... اور عراقی ملیشیاؤں کو امریکی انتباہ
اقتدار پر ایرانی حکومت کی گرفت 1979 میں شاہ کی معزولی کے بعد سے اب تک کے اپنے کمزور ترین نقطے پر پہنچ چکی ہے
با خبر ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متعدد ایسی انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں جو ایرانی حکومت کے موقف میں کمزوری اور گراوٹ کی نشان دہی کرتی ہیں۔
اسی کے ساتھ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے شام، عراق اور اسرائیل کا دورہ کیا، جس میں شمال مشرقی شام میں داعش کے جنگجوؤں کے حراستی مراکز کا دورہ بھی شامل تھا۔ امریکی حکام نے عراقی حکام کو ایک دوٹوک پیغام پہنچایا ہے کہ "اگر ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے اور اگر عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں نے امریکی اڈوں یا افواج پر فائرنگ کی، تو امریکہ اس کا براہ راست جواب دے گا"۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کی گئی انٹیلی جنس رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ اقتدار پر ایرانی حکومت کی گرفت 1979 میں شاہ کی معزولی کے بعد سے اب تک کے کمزور ترین نقطے پر پہنچ چکی ہے۔ "نیویارک ٹائمز" کے مطابق گذشتہ سال کے آخر میں شروع ہونے والے مظاہروں نے حکومت کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر جب یہ احتجاج ان علاقوں تک پہنچ گئے جنہیں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی حمایت کے روایتی گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
اقتصادی مشکلات اور اندرونی جبر مظاہروں کی شدت میں کمی کے باوجود حکومت اب بھی مشکل صورتحال میں ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں بارہا ایرانی معیشت کی تاریخی کمزوری پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو دسمبر میں ہونے والے متفرق مظاہروں کی چنگاری بنی تھی۔ جنوری میں احتجاج میں وسعت کے ساتھ، تہران کے پاس معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے محدود اختیارات رہ گئے، جس نے حکام کو پرتشدد کریک ڈاؤن پر مجبور کیا، اس سے نظام عوام کے بڑے طبقات سے مزید کٹ کر رہ گیا۔
فوجی نقل و حرکت اور خطے میں الرٹ امریکی فوج خطے میں اپنی افواج کو مضبوط بنانا جاری رکھے ہوئے ہے، اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کیا اقدامات اٹھا سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک بیان میں کہا "صدر ٹرمپ دنیا بھر کے انٹیلی جنس معاملات پر مسلسل بریفنگ لے رہے ہیں اور جہاں تک ایران کا تعلق ہے، وہ صورتحال کی کڑی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں"۔
مظاہرین کے خلاف خونی جبر میں اضافے کے ساتھ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے امکان سے خبردار کیا تھا، تاہم ان کے مشیر حملوں کی افادیت پر منقسم ہیں، خاص طور پر اگر وہ صرف علامتی ہوں۔ ایک سینئر امریکی عہدے دار کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ تہران کی جانب سے ایک احتجاجی کی سزائے موت منسوخ کرنے کے بعد صدر فوری حملے کے خیال سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
"نظام کی تبدیلی" کا آپشن ٹرمپ انتظامیہ میں شامل بعض "عقابوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے ایک وسیع مہم کا خیال اب بھی پرکشش ہے، جو اسے ایرانی قیادت کا تختہ الٹنے کا ایک موقع سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ طاقت کے استعمال کی دھمکی دینا جاری رکھے ہوئے ہیں، خطے میں اپنی بحری کمک کو ایک بڑا بیڑا قرار دیتے ہیں۔ وہ تہران کو ان حملوں کی یاد دلاتے ہیں جن کا حکم انہوں نے گذشتہ سال قلعہ بند جوہری تحقیقی مقامات کے خلاف دیا تھا۔
ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ٹرمپ سے بات کی ہے اور انہیں توقع ہے کہ صدر ایرانی مظاہرین کی مدد کا اپنا وعدہ پورا کریں گے۔ گراہم نے کہا "مقصد اس نظام کا خاتمہ ہے"۔
میدانی کمک طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہم لنکن"، "ٹوم ہاک" میزائلوں سے لیس 3 جنگی جہازوں کے ہمراہ، مغربی بحر ہند میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذمہ داری کے علاقے میں داخل ہو چکا ہے۔ فوجی حکام نے اشارہ دیا کہ اگر احکامات ملے تو یہ بحری جہاز ایک یا دو دن میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے ممکنہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے امریکی افواج کے تحفظ کے لیے اضافی F-15E حملہ آور طیارے، اور "پیٹریاٹ" و "تھاڈ" (THAAD) فضائی دفاعی نظام بھی بھیجے ہیں۔