فرانس میں بچوں اور نوجوانوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فرانسیسی قومی اسمبلی نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے بل کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ پیر کی شب پیرس میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا، جسے ڈیجیٹل دنیا میں کم عمر صارفین کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر نابالغوں کو الیکٹرانک پلیٹ فارمز کے ذریعے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تک رسائی سے روک دیا جائے گا۔تاہم اس قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی منظوری ابھی باقی ہے۔
منظور شدہ متن میں واضح طور پر یہ تعین نہیں کیا گیا کہ کن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لاگو ہوگی، البتہ اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ''آن لائن انسائیکلوپیڈیاز ''اور ''تعلیمی یا سائنسی رہنما مواد'' اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ نجی پیغام رسانی کی خدمات بھی اس قانون کے دائرۂ کار میں شامل نہیں ہوں گی۔
بل کا ابتدائی مسودہ نسبتاً نرم تھا، جس میں والدین کی اجازت سے کم عمر بچوں کو بعض پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم موجودہ شکل میں اس شق کو حذف کر دیا گیا ہے۔
اس قانون کو قومی اسمبلی میں صدر ایمانوئل میکرون کے حامی ارکان کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ووٹنگ کے بعد صدر میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس ''پر لکھا: یہ وہی ہے جس کی سفارش سائنس دان کرتے ہیں اور جس کا فرانسیسی عوام بھاری اکثریت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔
میکرون نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ قانون آئندہ تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ نافذ ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا: یکم ستمبر سے ہمارے بچے اور نوجوان آخرکار محفوظ ہوں گے اور میں اس بات کو یقینی بناؤں گا۔
چند سال قبل فرانس نے یہ کوشش کی تھی کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کی جائے، تاہم یورپی یونین کے قوانین کے باعث اس قانون پر عملدرآمد ممکن نہ ہو سکا۔ یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا نیا قانون یورپی یونین کے موجودہ ضوابط سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔
گزشتہ سال یورپی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے یورپی یونین کی سطح پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، تاہم یہ رپورٹ قانونی طور پر لازمی حیثیت نہیں رکھتی۔