سینڈانس فلم فیسٹیول میں پیش کی جانے والی دستاویزی فلم ’امریکن ڈاکٹر‘ میں غزہ کی جنگ کے دوران وہاں کے ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے امریکی ڈاکٹروں کی چشم دید گواہیاں شامل کی گئی ہیں، جن کے ذریعے شہریوں اور طبی عملے پر جنگ کے اثرات کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
دستاویزی فلم امریکن ڈاکٹر میں یہودی نژاد امریکی ڈاکٹر مارک پیرلمٹر اور دو دیگر امریکی ڈاکٹروں کے تجربات پیش کیے گئے ہیں، جن میں ایک فلسطینی نژاد امریکی بھی شامل ہے۔ یہ ڈاکٹر غزہ میں جنگ کے نتیجے میں شہریوں کو پہنچنے والے جسمانی اور نفسیاتی زخموں کا علاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جنگ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو اسرائیل اور حماس کے درمیان اس وقت شروع ہوئی جب فلسطینی تنظیم نے جنوبی اسرائیل پر غیر معمولی حملہ کیا جس میں 1221 افراد ہلاک ہوئے، یہ اعداد و شمار فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر جاری کیے۔ اس کے برعکس غزہ میں جنگ کے نتیجے میں 70 ہزار سے زائد افراد جان سے گئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ہیں۔
فلم کے آغاز میں ہدایت کارہ بو سی ٹینگ ایک ڈاکٹر کی جانب سے دکھائی جانے والی فلسطینی بچوں کی لاشوں کی تصاویر فلم بند کرنے سے انکار کر دیتی ہیں کیونکہ ان کے بقول ایسی تصاویر کو دھندلا کرنا بچوں کی عزت و وقار کے منافی ہوگا۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ تینوں ڈاکٹر فلسطینی ساتھیوں کے ساتھ مل کر کٹے ہوئے اعضا اور کھلے زخموں کا علاج کرتے ہیں اور ساتھ ہی واشنگٹن کے فیصلہ ساز حلقوں اور اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں متاثرین کے حق میں آواز بھی بلند کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مارک پیرلمٹر کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی عزت اسی صورت ممکن ہے جب ان کی یادیں اور ان کے جسم اس سانحے اور اس اجتماعی قتل کی کہانی سنائیں۔ ان کے بقول حقیقت کو چھپانا ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ وہ نتائج ہیں جو میرے اور دوسروں کے ادا کردہ ٹیکس کا حاصل ہیں، عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ ان کے مطابق مناظر کو دھندلا دینا صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔
کیا ہو رہا ہے جاننے کا حق
فلسطینیوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیل پر غزہ میں ایسے اقدامات کا الزام عائد کیا ہے جو جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں تاہم اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے ۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ایسے مسلح افراد کو نشانہ بنایا جو ہسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو کمانڈ مراکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اسرائیل کے مطابق حماس کے عناصر ان ہسپتالوں کے نیچے سرنگوں میں چھپے ہوئے تھے۔
فلم میں شامل ڈاکٹر وائرس سیدوا کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بھی ہسپتال میں سرنگیں نہیں دیکھیں اور ان کے مطابق زخمی جنگجوؤں کی موجودگی کسی ہسپتال کو جائز ہدف نہیں بناتی۔
دستاویزی فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کو میدانِ عمل میں کس قدر مشکلات کا سامنا رہا، جن میں اسرائیلی محاصرے سے بچنے کے لیے سرحدوں کے راستے آپریشن کے لباس اور اینٹی بایوٹک ادویات اسمگل کرنا اور آخری لمحات میں اسرائیلی حکام کی جانب سے داخلے کی اجازت نہ دینا شامل ہے۔
فلم میں ان افراد کی جرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جو اسرائیلی فوج کی جانب سے بار بار بمباری کی زد میں آنے والے ہسپتالوں میں رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہے۔
ڈاکٹر سیدوا نے سینڈانس فلم فیسٹیول کے موقع پر فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کیا ہو رہا ہے، ان کے پیسے کہاں خرچ ہو رہے ہیں اور وہ خود فیصلہ کریں کہ آیا وہ واقعی ایسا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں؟۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ جواب نفی میں ہوگا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ لوگ یہ جان لیں کہ وہ بچوں کے قتل میں شریک ہونے پر مجبور نہیں ہیں مگر اس وقت ہم سب اس میں شریک ہیں۔
ڈاکٹر سیدوا کی گواہی کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ وہ دیگر دو ڈاکٹروں کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب خان یونس میں ناصر ہسپتال پر اگست سنہ 2025ء میں دوہرا حملہ کیا گیا تھا۔
اس حملے میں ابتدائی فضائی کارروائی کے بعد موقع پر پہنچنے والے امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو اسی مقام پر دوسری بار نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اسرائیل پر غزہ میں اجتماعی قتل کا الزام عائد کیا ہے تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو جھوٹا اور یہود مخالف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
فلم کے پروڈیوسروں کا کہنا ہے کہ یہ فلم ان تقریباً 1700 طبی کارکنوں کے نام منسوب کی گئی ہے جو جنگ کے آغاز سے اب تک جان سے جا چکے ہیں۔
اکتوبر سنہ 2025ء سے نافذ جنگ بندی کے باوجود فریقین ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف کے مطابق اس دوران درجنوں بچوں سمیت سینکڑوں فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
سینڈانس فلم فیسٹیول یکم فروری تک جاری رہے گا۔