11 ممالک نے اسرائیل سے غزہ میں امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کر دیا

غزہ میں انسانی صورتحال اب بھی تباہ کن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانس، کینیڈا اور برطانیہ سمیت گیارہ ممالک نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ محصور غزہ میں انسانی امداد کو "بلا رکاوٹ" پہنچانے کی اجازت دے، اور اس بات پر زور دیا کہ وہاں کی انسانی صورتحال اب بھی "تباہ کن" ہے۔

بیلجیئم، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، آئرلینڈ، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، پرتگال، اسپین اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ "اگرچہ غزہ میں امداد کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے، لیکن صورتحال اب بھی تباہ کن ہے اور موجودہ امدادی سامان عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے"۔

اسرائیل کو امن منصوبے پر عمل کی ہدایت

انہوں نے کہا کہ "اسرائیل نے صدر ٹرمپ کی پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس میں اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے زیر اہتمام امداد کی بلا رکاوٹ رسائی اور غزہ میں تقسیم یقینی بنانے کا عزم شامل ہے"۔

بیان میں اسرائیلی حکومت سے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اسرائیل غیر ملکی غیر سرکاری تنظیموں کو غزہ میں کام کرنے کی مکمل صلاحیت دے، خاص طور پر ان کے سخت رجسٹریشن ضوابط کو نرم کرے ، "تمام سرحدی راستے دوبارہ کھولے اور رفح گذرگاہ کو دو طرفہ کھولنے کے منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنائے"۔

آخرکار رفح گذرگاہ کھولنے کی راہ ہموار

یہ مشترکہ بیان ایک ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے اسرائیل نے گذشتہ پیر کو غزہ سے آخری یرغمالی کی باقیات واپس حاصل کیں، جو امن مذاکرات میں کسی بھی اضافی پیش رفت کی شرط تھی۔اس سے انسانی امداد پہنچانے کے لیے رفح گذرگاہ دوبارہ کھولنے کا راستہ ہموار ہوا۔

اقوام متحدہ اور انسانی تنظیموں نے طویل عرصے سے اس گذرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا، لیکن اسرائیل نے اعلان کیا کہ یہ صرف پیدل چلنے والوں کے لیے کھولی جائے گی اور "جامع اسرائیلی تلاشی کا نظام" نافذ کیا جائے گا۔

’انروا‘ کے دفتر کی تباہی کی مذمت

ان ممالک نے اسرائیلی حکام کی جانب سے مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین فلسطینی ایجنسی (انروا) کے دفتر کو سنہ 20 جنوری کو مسمار کرنے کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے زور دیا کہ "اقوام متحدہ کے رکن ملک کی جانب سے کسی ذیلی ایجنسی کے خلاف یہ غیر معمولی اقدام، ایجنسی کی کام کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کی ناقابل قبول کوشش ہے۔"

انروا کا دفتر خالی

مشرقی یروشلم میں انروا کا دفتر جنوری سنہ 2025 سے عملے سے خالی ہے، جب غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں ایجنسی کے کردار پر کئی ماہ جاری تنازع کے بعد اسرائیلی فیصلہ آیا کہ انروا اسرائیل میں کام نہیں کر سکتی۔

اسرائیل نے انروا کے عملے پر حماس کے عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگایا، لیکن کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا۔

اب بھی انروا مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں