روس کے قومی تحقیقی مرکز ''کورچاتوف انسٹیٹیوٹ'' کے سربراہ میخائل کووالچک(Mikhail Kovalchuk) نے اعلان کیا ہے کہ خلا میں استعمال کے لیے مواد کی جانچ ایسے حالات میں کی جا رہی ہے جہاں درجۂ حرارت منفی 120 ڈگری سینٹی گریڈ تک اور تابکاری کی سطح انتہائی بلند ہے۔
کووالچک (Kovalchuk)نے ماسکو میں منعقدہ نئے مواد کیمیا اور ٹیکنالوجیز سے متعلق تیسرے بین الاقوامی فورم اے ایم ٹی ایکسپو 2026کے دوران بتایا کہ ان کا ساز و سامان مواد کی مکینیکل خصوصیات کو منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجۂ حرارت اور بے پناہ تابکاری میں پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ انہیں خلائی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس نے گزشتہ ماہ بظاہر سائنسی افسانوں سے ملتے جلتے ایک منصوبے کا انکشاف کیا تھا، جس کے تحت آئندہ ایک دہائی کے دوران چاند کی سطح پر ایک جوہری توانائی کا اسٹیشن تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔
اس منصوبے کا مقصد روس کے قمری خلائی پروگرام کو توانائی فراہم کرنا اور روس،چین کے مشترکہ تحقیقی مرکز کی معاونت کرنا ہے، جبکہ بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان خلا کی کھوج کا مقابلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔
خلائی دوڑ میں روس کی واپسی
1961 میں سوویت خلا باز یوری گاگارین کے خلا میں جانے کے بعد روس طویل عرصے تک کائنات کی کھوج میں صفِ اول میں رہا۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران امریکا اور چین کے مقابلے میں اس کی برتری میں کمی آئی، خاص طور پر 2023 میں بغیر عملے کے خلائی جہاز لونا 25کے چاند کی سطح سے ٹکرا جانے کے واقعے کے بعد۔ اسی دوران ایلون مسک کی قیادت میں ''اسپیس ایکس ''جیسی نجی کمپنیوں نے خلائی گاڑیوں کی لانچنگ کے شعبے میں ایک نئی انقلاب برپا کر دیا۔
پائیدار توانائی کے لیے قمری
اسٹیشنروسی خلائی ایجنسی ''روسکوسموس ''کے مطابق اس منصوبے کا مقصد روسی قمری پروگرام کو توانائی فراہم کرنا ہے، جس میں قمری روورز، رصدگاہیں اور چاند پر قائم روس،چین مشترکہ تحقیقی اسٹیشن کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔
ایجنسی نے بتایا کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے کمپنی ''لاووچکن ایسوسی ایشن'' کے ساتھ 2036 تک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ قدم مختصر مدت کی انفرادی مہمات سے نکل کر چاند کی طویل المدتی کھوج کے جامع پروگرام کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔
قمری مستقبل کے پیچھے جوہری توانائی
اگرچہ ''روسکوسموس'' نے کھل کر یہ نہیں بتایا کہ یہ اسٹیشن جوہری ہوگا، تاہم سرکاری ادارے ''روس ایٹم ''اور روس کے سب سے بڑے جوہری تحقیقی مرکز کورچاتوف انسٹیٹیوٹ کی شمولیت اس بات کی مضبوط نشاندہی کرتی ہے کہ اس منصوبے میں جوہری توانائی بنیادی کردار ادا کرے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس خلا میں اپنی حیثیت مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، ایک ایسے عالمی مقابلے کے دوران جس میں بڑی طاقتیں چاند کی سطح کے ہر حصے پر سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کے آغاز کے گواہ بن رہے ہیں۔