ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، جوہری مقامات کی نگرانی میں مہارت رکھنے والا ایک امریکی طیارہ برطانیہ پہنچ گیا ہے۔ یہ بات جمعرات کو اخبار "ڈیلی میل" نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔
اخبار کے مطابق اس طیارے کو برطانیہ کے ایک نامعلوم فضائی اڈے پر دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی خصوصی دستے V-22 Osprey طیارے سے رسیوں کے ذریعے تیزی سے اترنے کی مشقیں کر رہے ہیں۔ یہ وہ تکنیک ہے جو "دشمن کی لائنوں کے پیچھے فوج اتارنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے"۔
واضح رہے کہ 40 برسوں میں یہ صرف تیسرا موقع ہے کہ اس طیارے کو برطانیہ کے کسی فضائی اڈے پر بھیجا گیا ہے۔ یورپ میں اس کی تعیناتی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے اور عام طور پر یہ صرف روسی سرحدوں کے قریب مشن تک محدود ہوتی ہے۔ طیارے کی اس نایاب آمد نے ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاریوں کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
طیارہ WC-135R اس بات کی جانچ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ آیا کرہ ارض کی فضا میں تابکاری کا اخراج تو نہیں ہو رہا، جس کا تعلق جوہری دھماکوں یا حادثات کے سراغ لگانے سے ہوتا ہے۔ اسے 1986 میں چرنوبل کی تباہی کے بعد، 2011 میں فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کے حادثے کے وقت، شمالی کوریا کے جوہری تجربات کے دوران اور 2022 میں یوکرین روس جنگ کے آغاز پر بھی تعینات کیا گیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک امریکی اہل کار نے جمعرات کو بتایا کہ خطے میں بڑی امریکی فوجی کمک اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی بحریہ نے مشرق وسطیٰ میں ایک اضافی جنگی جہاز بھیجا ہے۔
رائٹرز کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اہل کار نے بتایا کہ تباہ کن جنگی جہاز (Destroyer) "ڈیلبرٹ ڈی بلیک" گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران خطے میں داخل ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں امریکی تباہ کن جہازوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے، جبکہ ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور 3 دیگر جنگی بحری جہاز بھی وہاں موجود ہیں۔