پزشکیان کا ٹرمپ پر ایرانیوں کو اشتعال دلانے کا الزام، حکومت میں عوامی شراکت داری کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران میں بد امنی پھیلانے کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل پر اپنے الزامات کا اعادہ کیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر پزشکیان نے آج ہفتے کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور یورپ نے ملک بھر میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران تناؤ پیدا کیا اور عوام کو "اشتعال" دلایا۔ انہوں نے مزید کہا "کچھ لوگ پُر امن احتجاج کا فائدہ اٹھا کر ایرانیوں کے درمیان فتنہ اور خانہ جنگی پیدا کرنا چاہتے ہیں"۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ملک میں ہونے والی سازشوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے"۔

اس کے باوجود انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت کو "عوام کے ساتھ اپنے برتاؤ کے طریقے پر نظرِ ثانی" کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "انصاف حکومت کی اولین ترجیح ہے"، اور مزید کہا کہ "ہمیں عوام کو ان کی حاکمیت دینی چاہیے اور انہیں طرزِ حکمرانی میں شامل کرنا چاہیے"۔

ایرانی صدر اس سے قبل بھی کئی بار مشکل معاشی حالات کا اعتراف کر چکے ہیں۔ گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کے علانیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا "ہم اس وقت حکومت نہیں کر سکتے جب عوام بھوکے ہوں"۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان: اے ایف پی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان: اے ایف پی

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب معاشی حالات کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد ایران نازک صورت حال سے دوچار ہے۔ یہ احتجاج سیاسی مطالبات میں تبدیل ہونے کے بعد اب تھم چکے ہیں۔

یہ صورت حال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں پیدا ہوئی ہے، جنہوں نے حال ہی میں کئی بار فوجی آپشن کا اشارہ دیا ہے، جبکہ خطے میں جنگی جہاز اور تباہ کن بحری بیڑے جمع ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے گذشتہ روز یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے ایک ایسی مہلت دی ہے جس کی تفصیلات انہوں نے ظاہر نہیں کیں۔

تاہم، امریکی صدر "اپنی شرائط پر مذاکرات" چاہتے ہیں، جو کہ ایرانی جانب سے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں سے دست برداری کے ساتھ ساتھ خطے میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے معاملے کو حل کرنے پر مبنی ہیں۔ دوسری طرف، تہران نے مذاکرات اور جوہری ہتھیاروں سے دست برداری کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، بشرطیکہ ایسا معاہدہ ہو جو اس پر عائد پابندیاں ختم کرے اور جس میں اس کی "دفاعی اور بیلسٹک صلاحیتوں" کا ذکر نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں