امریکی میڈیا نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کے انسداد کے خطرے کی سطح کو بلند ترین درجے تک پہنچا دیا ہے۔
"این بی سی نیوز" نے امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا کہ محکمہ دفاع کی ملٹری انٹیلی جنس (ڈی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ "اسرائیل کی انسانی جاسوسی اور تکنیکی معلومات جمع کرنے کی صلاحیت نازک سطح پر پہنچ گئی ہے"۔
چینل کے مطابق یہ اقدام ان خدشات کے بعد سامنے آیا ہے کہ اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اندرونی بات چیت اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے امریکہ میں اعلیٰ حکام کی جاسوسی کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے اعلیٰ عہدے داروں کی جاسوسی کی کوشش کی ہے، جن میں مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور پینٹاگان کے اعلیٰ سیاسی عہدے دار ایلبرج کولبی شامل ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اتحاد کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں ماضی میں بھی جاسوسی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ سن 2020 میں امریکہ نے جوناتھن پولارڈ کو رہا کیا تھا، جنہیں 1985 میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم میں امریکہ میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 66 سالہ پولارڈ نے امریکی خفیہ دستاویزات اسرائیل کو فراہم کرنے کے جرم میں تین دہائیاں قید میں گزاریں۔