زمین نے انسان سے دو ارب سال پہلے قدرتی ایٹمی ری ایکٹر بنا لیا
انسان کے ایٹم کو توڑنے میں کامیاب ہونے سے تقریباً دو ارب سال پہلے زمین یہ کارنامہ انجام دے چکی تھی اور نہ صرف یہ بلکہ اس وقت زمین اپنے قدرتی جوہری ری ایکٹرز بھی چلا رہی تھی۔ یہ ری ایکٹرز لاکھوں برس تک کام کرتے رہے، اسی دور میں جب کثیر خلوی زندگی کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔
1972 میں فرانس کے شہر پیئرلاٹ میں یورودِف یورینیم پروسیسنگ پلانٹ کے انجینئرز مغربی افریقہ کے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک گبون سے آنے والی یورینیم کی کھیپ کا تجزیہ کر رہے تھے کہ انہیں ایک غیر معمولی بات نظر آئی۔
یورینیم-235 جسے مختصراً U-235 کہا جاتا ہے، کی مقدار توقع سے کم تھی اور یہ کمی چند چٹانوں میں نہیں بلکہ اسی مخصوص کان سے نکالی گئی تمام چٹانوں میں موجود تھی۔
چٹانوں میں یورینیم-235 کے نظیر کی کمی پائی گئی اور چونکہ یورینیم کے نظائر کا تناسب قدرتی طور پر مستقل ہوتا ہے، اس لیے اس کی واحد ممکنہ وضاحت یہی تھی کہ یہ مادہ پہلے ہیایٹم بم ٹوٹنے( جوہری انشطار) سے گزر چکا تھا۔ مختصر یہ کہ یہ اس بات کا قطعی ثبوت تھا کہ یورینیم ماضی میں جوہری ایندھن کے طور پر استعمال ہو چکا ہے۔
طبیعیات دان فرانسس پیرین نے اس دریافت پر غور کیا اور ابتدا میں اس کی تشریح سے ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔ قدرتی یورینیم میں یورینیم-235 کی مقدار 0اعشاریہ720 فیصد ہوتی ہے، جبکہ گبون کے علاقے اوکلو سے ملنے والی ان چٹانوں میں یہ مقدار صرف 0اعشاریہ717 فیصد تھی۔ فرق اگرچہ معمولی صرف 0اعشاریہ003 فیصدتھا، مگر اس کی سائنسی اہمیت غیر معمولی تھی۔
قدرتی طور پر ایٹم کا ٹوٹنا
اگرچہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ یہ چٹانیں کسی جوہری عمل کا حصہ رہ چکی ہیں، تاہم سائنس دانوں کے لیے اس حقیقت کو قبول کرنا آسان نہیں تھا۔
مزید تجزیے کے بعد انشطار سے پیدا ہونے والی نظائری نشانیاں دریافت ہوئیں، جس سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ اوکلو کا یورینیم خام ماضی میں زمین کی گہرائی میں موجود قدرتی جوہری ری ایکٹر،بلکہ کئی ری ایکٹرزکو چلا چکا تھا۔
لودووِک فریئر جو ویانا کے قدرتی تاریخ کے عجائب گھر میں چٹانوں کے مجموعے کے نگران ہیں (جہاں 2019 سے یہ نمونے مستقل طور پر محفوظ ہیں)، کہتے ہیں:مزید تحقیقات بشمول زمینی مطالعات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یورینیم خام خودبخود ایٹم کا ٹوٹنے سے گزرا تھا۔ اس کی کوئی اور وضاحت ممکن نہیں تھی۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے توانائی کے میدان میں انسان کو تقریباً دو ارب سال پہلے ہی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ البتہ اس دور میں زمین کی حالت آج سے بالکل مختلف تھی۔
اُس زمانے میں قدرتی یورینیم میں یورینیم-235 کی مقدار تقریباً 3 فیصد تھی، جو آج کے بعض جدید ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والے افزودہ یورینیم کے برابر ہے۔اگرچہ صرف یہی مقدار مسلسل انشطار کے لیے کافی نہیں تھی، مگر اوکلو میں ان چٹانوں کے درمیان بہنے والا زیرِ زمین پانی نیوٹرونز کو سست کرنے والا قدرتی مھدی بن گیا۔
بالکل ویسے ہی جیسے آج کے کئی جوہری ری ایکٹرز میں پانی استعمال ہوتا ہے۔ جب زیرِ زمین پانی مناسب مقدار میں بہتا، تو انشطار کا عمل شروع ہو جاتا۔بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ قدرتی ری ایکٹر مسلسل نہیں چلتے تھے بلکہ لاکھوں برس کے دوران وقفے وقفے سے بند اور دوبارہ فعال ہوتے رہے۔
اگرچہ یورینیم-235 کے ایٹم کبھی کبھار خودبخود ٹوٹتے ہیں، مگر اوکلو کے مخصوص حالات نے ان نایاب واقعات کو ایک مستقل تسلسلی ردِعمل میں تبدیل کر دیا۔پانی میں موجود ہائیڈروجن کے ایٹمز، جو چٹانوں کے شگافوں اور مساموں میں بھرے ہوتے تھے، تیز رفتار نیوٹرونز کو سست کرتے، جس سے مزید جوہری انشطار ممکن ہوتا اور عمل جاری رہتا۔ بعد ازاں پیدا ہونے والی حرارت پانی کو بخارات میں تبدیل کر دیتی، جس سے مھدی ختم ہو جاتا اور ری ایکٹر رک جاتا،یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہتا جب حالات ٹھنڈے ہو کر پانی دوبارہ چٹانوں میں داخل نہ ہو جاتا۔
پندرہ جوہری ری ایکٹرز اور اس سے زیادہ
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے پیٹر وُڈز کے مطابق:بالکل آج کے ہلکے پانی سے چلنے والے جوہری ری ایکٹرز کی طرح جب نیوٹرونز کو سست کرنے والا کوئی عنصر موجود نہ ہو تو انشطار رک جاتا ہے۔ اوکلو میں پانی نے مھدی کا کردار ادا کیا، نیوٹرونز کو جذب کیا اور تسلسلی ردِعمل کو قابو میں رکھا۔
1972 میں اس دریافت کے بعد اوکلو کے مرکزی یورینیم ذخائر میں کم از کم 15 قدرتی جوہری ری ایکٹرز کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جبکہ قریبی علاقے بانگومبی میں بھی ایسے مقامات دریافت ہوئے ہیں۔ ہر ری ایکٹر ایسی نظائری نشانیاں رکھتا ہے جو صرف مسلسل جوہری انشطار کے نتیجے میں ہی بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہر ری ایکٹر اپنے فعال دور میں تقریباً 100 کلوواٹ حرارتی توانائی پیدا کرتا تھا،جو آج کے معیار کے مطابق کم ہے، اور ری ایکٹر کے بند یا دوبارہ شروع ہونے کے وقت اس سے بھی کہیں کم ہوتی تھی۔
اوکلو کا حیرت انگیز مظہر
2011 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا:اوکلو کا مظہر بیسویں صدی کی زمیناتی اور جوہری طبیعیات کی سب سے حیران کن دریافتوں میں سے ایک ہے۔آج قدرتی حالات میں زمین کے نیچے ایسا واقعہ دوبارہ پیش آنا ممکن نہیں، کیونکہ قدرتی ذخائر میں یورینیم-235 کی مقدار گھٹ کر تقریباً 0اعشاریہ7 فیصد رہ گئی ہے، جو انسانی افزودگی کے بغیر کسی بھی تسلسلی جوہری عمل کے لیے ناکافی ہے۔اگرچہ اوکلو کا علاقہ آج بھی یورینیم کی کان کنی کا مرکز ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ دنیا بھر کے سائنس دانوں کے لیے ایک نہایت اہم تحقیقی مقام بھی بن چکا ہے۔