سعودی مفتی اعظم نے علماء کونسل کے اراکین کو فتاویٰ کی ذمے داریاں تفویض کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے مفتیِ اعظم، چیئرمین سینئر علماء کونسل اور جنرل پریذیڈنسی برائے علمی تحقیقات و افتاء کے سربراہ شیخ ڈاکٹر صالح الفوزان نے سینئر علماء کونسل کے متعدد اراکین کو مملکت کے مختلف صوبوں میں فتویٰ دینے کی ذمہ داری تفویض کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس شاہی فرمان کی مسلسل تعمیل میں کیا گیا ہے جس کے تحت فتویٰ دینے کا اختیار صرف سینئر علماء کونسل کے اراکین تک محدود ہے۔

نامزد کیے گئے اراکین کی تفصیل درج ذیل ہے:

شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد بن عبدالعزیز بن سعید (صوبہ تبوک اور صوبہ الجوف)

شیخ ڈاکٹر محمد بن محمد المختار (صوبہ مدینہ منورہ)

شیخ ڈاکٹر جبریل بن محمد بن حسن البصیلی (صوبہ عسیر اور صوبہ جازان)

شیخ ڈاکٹر غالب بن محمد بن ابو القاسم حامظی (صوبہ الباحہ اور صوبہ نجران)

شیخ ڈاکٹر سامی بن محمد بن عبداللہ الصقیر (صوبہ قصیم اور صوبہ حائل)

شیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بليلہ (صوبہ مکہ مکرمہ)

شیخ ڈاکٹر عبدالإلہ بن محمد الملا (صوبہ الشرقیہ اور صوبہ شمالی سرحدی)

سینئر علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل اور جنرل پریذیڈنسی کے انتظامی و مالی امور کے نگران شیخ ڈاکٹر فہد بن سعد الماجد نے کہا کہ ان تقرریوں کا مقصد فتویٰ کو معتبر ذرائع سے حاصل کرنا اور اراکینِ کونسل کا پورے ملک کے معاشرے کے ساتھ رابطہ بڑھانا ہے، تاکہ فتویٰ طلب کرنے والوں کے لیے آسانی پیدا ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جنرل پریذیڈنسی ... اراکین کو ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، جس میں 80 سے زائد ماہر شرعی محققین پر مشتمل عملہ اور جدید ڈیجیٹل حل شامل ہیں۔

ڈاکٹر الماجد نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے "ویژن 2030" کے اہداف کے مطابق ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی (سدایا) کے تعاون سے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ سرکاری کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ علماء کی ان تقرریوں سے فتوے کے معتبر ذرائع کی پاسداری ہو گی، جو کہ معاشرے میں اعتدال اور میانہ روی کی اقدار کو راسخ کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں