گھوڑوں سے بجلی تک، 163 برس بعد مصر کا تاریخی ٹرام اپنی آخری منزل پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

163 برس سے زائد عرصے تک نہ رکنے والی سیٹیوں کے بعد اسکندریہ ٹرام جو افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کی قدیم ترین عوامی سواری ہے،عارضی طور پر اپنی آخری منزل پر پہنچ گیا ہے۔ یہ توقف ایک ایسے مرحلے کا پیش خیمہ ہے جو مصری وزارتِ نقل و حمل کی قیادت میں جامع ترقیاتی منصوبے کی راہ ہموار کرتا ہے، جس کا مقصد اس تاریخی شاہراہِ سفر کو ایک جدید ٹرانسپورٹ نظام میں تبدیل کرنا ہے۔

یہ نظام میٹرو اسکندریہ منصوبے کے ساتھ مربوط ہوگا، تاکہ ساحلی شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک بحران کا بنیادی اور پائیدار حل فراہم کیا جا سکے۔

وزارتِ نقل و حمل کے مطابق اسکندریہ گورنریٹ میں ٹرانسپورٹ نظام پر کی جانے والی جامع مطالعات سے واضح ہوا ہے کہ موجودہ ٹریفک مسائل سے نمٹنے کے لیے اس نظام کی ترقی ہی واحد مؤثر حل ہے۔ اسی بنیاد پر میٹرو اسکندریہ منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا گیا، جبکہ ترام الرمل کی ازسرِنو بحالی کی فوری ضرورت بھی سامنے آئی۔

وزارت نے بتایا کہ ازسرِنو بحالی کے منصوبے سے مسافروں کی گنجائش 4700 مسافر فی گھنٹہ فی سمت سے بڑھ کر 13800 مسافر فی گھنٹہ فی سمت ہو جائے گی، جبکہ سفر کا دورانیہ 60 منٹ کے بجائے 35 منٹ رہ جائے گا۔
اس کے ساتھ آپریٹنگ رفتار میں اضافہ ہوگا اور ٹرام کی آمدورفت کا وقفہ 9 منٹ سے کم ہو کر 3 منٹ رہ جائے گا۔

وزارت نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ وکٹوریہ اور سیدی جابر کے اسٹیشنوں کے ذریعے میٹرو اسکندریہ کے ساتھ مربوط ہوگا، جس سے مسافروں کی منتقلی میں سہولت اور مختلف ٹرانسپورٹ ذرائع کے درمیان بہتر ربط قائم ہوگا۔

مصری وزارتِ نقل و حمل کے مطابق موجودہ لائن کو بند کرنے کے لیے مرحلہ وار منصوبہ نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت مسافروں کی نقل و حرکت کے انداز کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق ترامیم کی جائیں گی، تاکہ راستے بھر میں شہریوں کی ضروریات پوری ہوں اور بہترین معیار کی سروس فراہم کی جا سکے۔

وزارت نے وضاحت کی کہ محکمۂ اسکندریہ اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے متبادل ٹرانسپورٹ کا ایک مربوط نظام فراہم کیا گیا ہے، جو ترام الرمل کے موجودہ اوقاتِ کار کے مطابق چلایا جائے گا، جس میں مجموعی طور پر 153 سفری ذرائع شامل ہوں گے۔

منصوبے کے فوائد کے حوالے سے وزارت نے کہا کہ یہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی، ایندھن کے استعمال میں بچت، ٹریفک کے دباؤ اور رکاوٹوں میں کمی اور نفاذ و آپریشن کے مراحل میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

منصوبے کے انجینئرنگ پہلو سے جائزہ لیتے ہوئے، ڈاکٹر حسن مہدی، جامعہ عین شمس میں روڈ انجینئرنگ کے پروفیسر، نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ٹرام محض ایک یادگار نہیں بلکہ اسکندریہ کے طلبہ اور رہائشیوں کے لیے ایک بنیادی سفری سہارا ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبے کا مقصد پٹریوں اور متحرک یونٹس کی جدید کاری کے ذریعے سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے، جس کے نتیجے میں سفر کا وقت کم ہوگا اور محفوظ و آرام دہ سفر کو فروغ ملے گا۔

شہری زندگی میں تعطل سے بچنے کے لیے ڈاکٹر مہدی نے متبادل بسوں کے منصوبے سے پردہ اٹھایا، جو ٹرام کے انہی اوقاتِ کار کے مطابق چلیں گی اور عارضی طور پر بند کیے گئے راستوں کو کور کریں گی، جب تک پرانی بوگیوں کی جگہ عالمی معیار کے مطابق نئی گاڑیاں شامل نہیں کی جاتیں۔ادھر کام کے آغاز کے ساتھ ہی تاریخی شناخت کے بارے میں اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں۔

اس تناظر میں ڈاکٹر سہیر زکی حواس جامعہ قاہرہ میں فنِ تعمیر کی پروفیسرنے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی کامیاب تجربات جیسے فرانس کے شہر لیون، مراکش کے رباط اور تیونس کو سامنے رکھا جائے، جہاں جدیدیت اور تاریخی ٹرام لائنیں ساتھ ساتھ ترقی کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر سہیر حواس تجویز کرتی ہیں کہ ٹرام کی روایتی شکل کو برقرار رکھا جائے، جبکہ اس کے اندرونی میکانیکی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائےبالکل اسی طرح جیسے لندن نے اپنی مشہور ڈبل ڈیکر بسوں کے ساتھ کیا—تاکہ اسکندریہ کی شناخت وقت کی گرد میں گم نہ ہو۔

ادھر تاریخ کے ماہر سامح الزہّار اس عوامی وسیلے کو ایک گہرے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ ٹرام اپنے اندر مادی ورثہ سمیٹے ہوئے ہے جو سڑکوں پر رواں ہے اور ساتھ ہی ایک غیر مادی ورثہ بھی جو اسکندریہ کے باسیوں کی کہانیوں اور اجتماعی یادداشت میں محفوظ ہے۔

الزہّار کے نزدیک 1863 میں گھوڑوں سے شروع ہونے والا یہ ٹرام جو بعد ازاں بھاپ اور پھر 1902 میں بجلی تک پہنچا،ایک ایسی سیاحتی اور تاریخی علامت ہے جو یونیسکو کے عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیے جانے کی مستحق ہے۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ترقیاتی عمل میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم محض ایک ذرائع آمدورفت کو جدید نہیں بنا رہے، بلکہ ایک شہر کی یادداشت اور ایک قوم کی روح کی مرمت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں