ہم شراکت دار کے طور پر امریکہ پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

عباس عراقچی کے مطابق ایران اب انتہائی مستعد ہے ... تاہم تیار ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اعتماد سازی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی نیٹ ورک "سی این این" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "بدقسمتی سے، ہم مذاکراتی شراکت دار کے طور پر امریکہ پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔"

بامعنی مذاکراتی عمل کے آغاز کے طریقے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عباس عراقچی نے مزید کہا "ہمیں اس بے اعتمادی کی صورت حال پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔"

ہفتہ وار تعطیلات کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی جانب پیش رفت کے آثار نمایاں ہوئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صحافیوں کو بتایا کہ ایران "ہم سے بات کر رہا ہے، وہ ہم سے سنجیدگی سے بات کر رہا ہے۔"

عراقچی نے "سی این این" کو بتایا کہ "خطے کے کچھ دوست ممالک" اعتماد سازی اور با معنی مذاکرات کے لیے زمین ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات چیت کو "بار آور" قرار دیا۔

ایرانی وزیر خاجہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جنگ سب کے لیے ایک تباہی ہو گی، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایران نے حالیہ جنگ میں بہت سے سبق سیکھے ہیں۔ عراقچی نے کہا کہ وہ اپنے ملک کو اب اچھی طرح تیار دیکھتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس تیاری کا مطلب یہ نہیں کہ ایران جنگ چاہتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں قیادت کے خلاف جنوری میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے حقوق کا "احترام اور تحفظ" کیا جائے گا۔

انہوں نے ذکر کیا کہ پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مظاہرین کو پھانسی دینے کے خلاف خبردار کیا تھا، اور تہران کے حکام کو احتجاج کچلنے کی پاداش میں بارہا فوجی حملوں کی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں